مقبوضہ بیت المقدس/تہران (کیو این این ورلڈ) اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید ہو گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ زیرِ زمین بنکر میں موجود تھے اور حملے میں درجنوں ساتھیوں سمیت مارے گئے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر 30 بم گرائے گئے اور ان کی میت کی تصویر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی دکھائی گئی۔ برطانوی میڈیا نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ خامنہ ای کی لاش مل گئی ہے، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر اب نہیں رہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ موت کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر بھی مارے گئے، خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ کیا گیا اور سینئر جوہری حکام بھی ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں دہشت گرد حکومت کے مزید ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا اور ایران کے خلاف کارروائی جب تک ضروری ہوئی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای محفوظ مقام پر اور خیریت سے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق صدر مسعود پزشکیان اور سپریم لیڈر دونوں محفوظ ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بحری اور فضائی حملے کیے جن میں ایرانی حکام کے مطابق 201 شہری جاں بحق اور 747 زخمی ہوئے۔ خبر ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق حملوں میں ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور کے جاں بحق ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ان خبروں کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔