پشاور (کیو این این ورلڈ) اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے حملہ آور کے گھر پر پشاور میں چھاپہ مار کر اس کے دو بھائیوں اور ایک خاتون سمیت چار افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق خودکش بمبار کا شناختی کارڈ جائے وقوعہ سے برآمد ہوا تھا، جس کی بنیاد پر مبینہ حملہ آور کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی۔ شناختی کارڈ پر مستقل پتہ عباس کالونی، شیرو جنگی چارسدہ روڈ پشاور جبکہ موجودہ پتہ گنج محلہ قاضیان پشاور درج ہے۔

تفتیشی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ خودکش حملہ آور کئی ماہ تک افغانستان میں مقیم رہا، جہاں اس نے اسلحہ چلانے اور خودکش حملے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کا تعلق کالعدم دہشتگرد تنظیم فتنہ الخوارج سے تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی کلاں میں غازی شاہ امام روڈ پر واقع امام بارگاہ کے گیٹ پر خودکش حملہ آور کو روکا گیا، جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس افسوسناک واقعے میں 32 افراد شہید جبکہ 169 زخمی ہوئے، جس کی ضلعی انتظامیہ نے تصدیق کی۔ واقعے کے بعد اسلام آباد کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔

پولیس نے حملہ آور کے ممکنہ نیٹ ورک اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے پشاور اور نوشہرہ میں مزید چھاپوں کا آغاز کر دیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور مزید اہم شواہد سامنے آنے کا امکان ہے، جو اس دہشتگردی کے پس منظر کو مزید واضح کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے