اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد خودکش حملے کی تمام تر منصوبہ بندی کالعدم تنظیم ‘داعش’ نے افغانستان میں کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران حملے سے منسلک تمام افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور حملے کا مرکزی ماسٹر مائنڈ بھی اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں کو مکمل فنڈنگ بھارت فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے دہشت گردی کا بجٹ تین گنا بڑھا دیا ہے، تاہم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ان مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح مستعد ہیں۔

محسن نقوی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا سی ٹی ڈی کی مدد سے نوشہرہ اور پشاور سے چار سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ماسٹر مائنڈ کا تعلق کالعدم داعش سے ہے اور ہمارے پاس پختہ ثبوت موجود ہیں کہ خودکش حملہ آور کو کس طرح سرحد پار سے لایا گیا اور اسے افغانستان میں کس طرح تربیت دی گئی۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف چھاپے کے دوران خیبرپختونخوا پولیس کا ایک اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت افغانستان کی سرزمین سے 21 دہشت گرد تنظیمیں آپریٹ ہو رہی ہیں جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ ہم اس وقت حالتِ جنگ میں ہیں، اس لیے کمیونٹی انٹیلی جنس کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایک دھماکہ ہوا ہے، لیکن ہمارے اداروں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے 99 ایسے حملوں کو ناکام بھی بنایا ہے جن کی خبر منظرِ عام پر نہیں آئی۔

بھارت کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دشمن ملک دہشت گردوں کو ٹارگٹ دے رہا ہے۔ پہلے جس دہشت گرد کو 500 ڈالر ملتے تھے، اب اسے 1500 ڈالر دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کی ویڈیوز بھارتی میڈیا پر چلائی جاتی ہیں، جو اس گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔

محسن نقوی نے عالمی برادری کو متنبہ کیا کہ اگر آج بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی تو کل دیگر ممالک کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی کوئی کیٹیگری نہیں ہوتی، جو پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے گا وہ دشمن ہی کہلائے گا۔

سوشل میڈیا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کے فروغ کے لیے استعمال ہونے والے متعدد اکاؤنٹس پکڑے گئے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو خبردار کیا کہ اگر ایسے اکاؤنٹس بند نہ کیے گئے تو حکومت سخت آپشنز استعمال کرنے پر مجبور ہوگی۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے اسلام آباد پولیس کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے 93 داخلی راستے ہیں جن کی نگرانی ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد پولیس کی 80 فیصد نفری 50 سال سے زائد عمر کی ہے، جس کی وجہ سے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے