تہران (کیو این این ورلڈ) ایرانی حکومت نے ملک میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی امریکی کمپنی اسٹار لنک کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، جس کے دوران سکیورٹی اداروں نے اسٹار لنک کی متعدد ڈیوائسز اور ٹرمینلز اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران میں اسٹار لنک سروس غیر قانونی ہے اور یہ ڈیوائسز زیادہ تر خفیہ راستوں سے ملک میں لائی جاتی ہیں۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایران میں جاری حالیہ مظاہروں کے باعث حکومت نے انٹرنیٹ کی فراہمی پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
گزشتہ ہفتے پرتشدد مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ایرانی حکام نے ملک کے بیشتر حصوں میں انٹرنیٹ کنکشن بند کر دیے تھے، جبکہ فون کالز اور پیغامات بھیجنے کی سہولت بھی محدود کر دی گئی تھی۔ امریکی اخبارات کے مطابق اس وقت ایران میں بلا تعطل انٹرنیٹ صرف سرکاری اداروں، ریاستی میڈیا اور حکومتی حامیوں کو ہی میسر ہے۔ انٹرنیٹ کی اسی بندش کے تناظر میں اسٹار لنک کے مالک ایلون مسک نے ایرانی عوام کو مفت سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ایرانی سکیورٹی فورسز نے ان ڈیوائسز کی تلاش کے لیے کریک ڈاؤن تیز کر دیا۔
ایران میں اسٹار لنک کے ٹرمینلز پہلی بار 2022 کے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران بڑی تعداد میں سامنے آئے تھے، جنہیں مظاہرین مواصلات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایرانی حکومت کی حالیہ کارروائی کا مقصد مظاہرین کے درمیان رابطوں کو مکمل طور پر منقطع کرنا اور معلومات کی ترسیل کو روکنا ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مواصلاتی آلات کی ملک میں موجودگی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس سلسلے میں مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ہے۔