واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی عوام کی اکثریت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی حالیہ جنگ کو جیفری ایپسٹین اسکینڈل سے عوامی توجہ ہٹانے کا ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دے دیا ہے۔ ایک امریکی ویب سائٹ کی جانب سے جاری کردہ تازہ سروے رپورٹ کے مطابق 52 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی صدارت کے لیے سنگین خطرہ بننے والے جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کیس سے بچنے کے لیے یہ جنگ چھیڑی۔
سروے کے نتائج کے مطابق 40 فیصد امریکیوں نے اس رائے سے اختلاف کیا ہے، جبکہ 8 فیصد عوام اس معاملے پر تاحال غیر یقینی کی صورتحال کا شکار ہیں۔ اس عوامی ردعمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی شہریوں کی ایک بڑی تعداد صدر کے اس فیصلے کو خالصتاً دفاعی کے بجائے سیاسی اور ذاتی مفادات سے وابستہ دیکھ رہی ہے، جس کا مقصد سنگین الزامات سے نظریں چرانا ہے۔
عوامی حلقوں میں اس جنگ کے حوالے سے شدید تنقید کی جا رہی ہے اور امریکیوں کی ایک بڑی تعداد نے طنزیہ طور پر صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف ‘آپریشن ایپک فیوری’ کو ‘آپریشن ایپسٹین فیوری’ کا نام دینا شروع کر دیا ہے۔ یہ صورتحال وائٹ ہاؤس کے لیے اندرونی سطح پر ایک نئے سیاسی چیلنج کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے کیونکہ عوام خارجہ پالیسی کے فیصلوں کو داخلی اسکینڈلز سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔