اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) ایران اور امریکہ کے درمیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہونے والے اہم مذاکرات میں پاکستان کو باضابطہ طور پر ثالثی کی دعوت دی گئی ہے اور اسلام آباد نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ اس پیش رفت کو ایک بڑی عالمی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد فریقین کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم سے بچنا اور کشیدگی میں کمی لانا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان سمیت خطے کے متعدد اہم ممالک کو بھی اس عمل کا حصہ بننے کی دعوت دی گئی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ اسے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات میں شرکت کا باقاعدہ دعوت نامہ موصول ہو گیا ہے۔ پاکستان اسے خطے میں پائیدار امن و استحکام اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں حصہ لینے کے لیے انتہائی اہم سمجھتا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان کی شرکت سفارتی عمل کو مزید مضبوط بنانے میں کلیدی اور مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں اسلام آباد کی جانب سے بھرپور اور مضبوط نمائندگی متوقع ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہونے کا قوی امکان ہے، جہاں مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کی سطح پر نمائندے شریک ہوں گے۔
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ ان مذاکرات میں پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، قطر، مصر، عمان، اور متحدہ عرب امارات کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ ان تمام کوششوں کا محور خطے کو کسی بھی ممکنہ جنگ یا بڑے پیمانے کی کشیدگی کے خطرے سے محفوظ رکھنا ہے۔
دوسری جانب، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ منصفانہ اور مساوی بنیادوں پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کی شرط یہ ہے کہ مذاکراتی ماحول دھمکیوں اور غیر معقول توقعات سے پاک ہونا چاہیے۔
ایرانی صدر کے اس بیان سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ تہران اب سنجیدگی سے سفارتی راستوں پر غور کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ امریکہ نے بھی باضابطہ طور پر گفتگو پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
یہ دعوت پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم سفارتی موقع قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ اسلام آباد علاقائی استحکام کے لیے اپنی مرکزی حیثیت اور فریقین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو مؤثر طریقے سے بروئے کار لا سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی ان مذاکرات میں شرکت نہ صرف علاقائی امن کی عالمی کوششوں کو تقویت دے گی بلکہ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی اثر و رسوخ اور بین الاقوامی ساکھ میں بھی اضافہ ہوگا۔