تہران (کیو این این ورلڈ) ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ "ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے”۔

علی لاریجانی کا یہ بیان امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد لاریجانی نے عمانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ سے جوہری مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایرانی عہدیدار نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے خیالی تصورات کے باعث مشرقِ وسطیٰ کو افراتفری کی آگ میں دھکیل دیا ہے اور اب وہ مزید امریکی ہلاکتوں سے خوفزدہ ہیں۔ لاریجانی کے مطابق ٹرمپ نے اپنے "امریکہ فرسٹ” کے نعرے کو "اسرائیل فرسٹ” میں بدل دیا ہے۔

ایرانی سیکریٹری سلامتی کونسل نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے اپنے فوجیوں کو صرف اسرائیل کے مفادات کی خاطر قربان کیا ہے، جس کی بھاری قیمت امریکی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو چکانا پڑے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی سرزمین اور مفادات کے دفاع کا بھرپور حق برقرار رکھے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے