تہران (کیو این این ورلڈ) ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ متعدد گاڑیاں تباہ اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں میزائل گرنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق مغربی یروشلم پر ہونے والے حملے میں 7 اسرائیلی شہری زخمی ہوئے ہیں۔ تل ابیب، یروشلم اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بھی میزائل حملے کیے گئے، جس کے بعد سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو بنکروں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ادھر اردن نے میزائل حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ حملوں میں اب تک 560 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ایرانی فوج نے امریکہ کے طیارہ بردار جہاز "ابراہام لنکن” کو چار میزائلوں سے نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تین امریکی اور برطانوی آئل ٹینکروں کو بھی ہدف بنایا گیا ہے جو اب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جل رہے ہیں۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق بحرین میں بھی امریکی فوجی اڈے پر حملے کیے گئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب اسرائیل نے ایران پر جوابی حملوں کی نئی لہر شروع کر دی ہے اور تہران میں شدید بمباری کی اطلاعات ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اینٹی ایئرکرافٹ گنز کی فائرنگ سے آسمان روشن ہو گیا۔ اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں نافذ ایمرجنسی کی مدت میں 12 مارچ تک توسیع کر دی ہے۔