ایران اسرائیل جنگ، اسرائیل میں میزائل حملوں سے تباہی

تہران/تل ابیب (کیو این این ورلڈ):ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے، ایرانی میزائل حملوں سے جنوبی اسرائیل میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جبکہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال بھی بگڑتی جا رہی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی ایروسپیس فورس کے کمانڈر سید ماجد موسوی نے دعویٰ کیا ہے کہ اب اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں کی فضاؤں پر ایرانی میزائلوں کا تسلط قائم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی نئی حکمت عملی اور جدید لانچ سسٹمز نے امریکی اور صہیونی قیادت کو حیران کر دیا ہے اور جنوبی اسرائیل کئی گھنٹوں تک میزائل حملوں کی زد میں رہے گا۔

ایرانی حملوں کے نتیجے میں جنوبی اسرائیلی شہر عراد اور دیمونا شدید متاثر ہوئے۔ عراد میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ دیمونا میں میزائل حملے کے نتیجے میں ایک 3 منزلہ عمارت تباہ ہو گئی اور 51 افراد زخمی ہوئے، تاہم عالمی جوہری ادارے کے مطابق ایٹمی تنصیبات محفوظ رہیں۔

حملوں کے بعد اسرائیلی حکام نے ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایمرجنسی سروسز کے مطابق متعدد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب خبر ایجنسی کے مطابق متحدہ عرب امارات کے قریب ایک بحری جہاز پر بھی میزائل حملہ کیا گیا ہے۔ برطانوی میری ٹائم ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ شارجہ کے شمال میں پیش آیا جس میں جہاز کو نقصان پہنچا تاہم عملہ محفوظ رہا۔

ادھر ایران نے بحر ہند میں واقع امریکی و برطانوی مشترکہ فوجی اڈے ڈیگو گارشیا پر بیلسٹک میزائل حملے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

اس تمام صورتحال کے درمیان مسعود پزشکیان نے عیدالفطر کے موقع پر اسلامی ممالک اور ہمسایہ ممالک کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ “آپ ہمارے بھائی ہیں، ہمارا آپ سے کسی قسم کا کوئی تنازع نہیں”، انہوں نے اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہے جبکہ دونوں جانب سے بیانات اور کارروائیاں صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے