اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر مکمل اتفاق کر چکا تھا اور عمان کی ثالثی میں مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے تھے، مگر اس پیشرفت کے باوجود ایران پر حملہ کر دیا گیا۔

سینیٹ اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر پالیسی بیان دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے ہمیشہ ایران کے پُرامن ایٹمی پروگرام کے حق کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات میں یہ بات واضح کی گئی تھی کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر تیار ہے، تاہم امریکہ تمام پروگرام ختم کرنا چاہتا تھا جبکہ پاکستان نے ایران کو پُرامن پروگرام جاری رکھنے کی بات منوائی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان واحد ملک ہے جس نے ایران پر حملے کی کھلے عام اور فوری مذمت کی، جس کا اعتراف ایرانی پارلیمنٹ میں "تشکر پاکستان” کے نعروں سے بھی ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جب پاکستان کے پاس سلامتی کونسل کی صدارت تھی، تب بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں۔

اسحاق ڈار نے افسوس کا اظہار کیا کہ امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان عرب ممالک پر حملہ نہ ہوتا تو پاکستان انہیں ساتھ ملا کر عالمی سطح پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزید مؤثر آواز بلند کر سکتا تھا۔

سینیٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہیں اور پاکستان نے 28 فروری کو سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلا کر ایران پر حملے کی مذمت اور پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی امن کمزور ہو رہا ہے اور تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے