کراچی(ویب ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے لیبر ڈویژن کے رہنما اور پیپلز یونٹی آف پی آئی اے نے قومی ایئرلائن کی نجکاری کے خلاف عالمی عدالت انصاف جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان کراچی پریس کلب میں پیپلز یونٹی آف پی آئی اے کے مرکزی صدر ہدایت اللہ خان، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور لیبر ڈویژن انچارج چوہدری منظور، اور لیبر ڈویژن سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔

صدر پیپلز یونٹی ہدایت اللہ خان نے کہا کہ پی آئی اے کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نجکاری کے عمل میں شامل کیا جا رہا ہے اور من پسند خریدار کو دینے کی تیاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیپلز یونٹی نے بھی بولی میں شامل ہونے کی درخواست دی تھی، مگر بغیر کسی جائزے کے مسترد کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاملہ حل نہ ہوا تو بین الاقوامی عدالت انصاف کے دروازے کو ضرور کھٹکھٹائیں گے۔

ہدایت اللہ خان نے موجودہ اور ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کے تحفظ کی تحریری یقین دہانی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ منگل سے علامتی طور پر ایک گھنٹے کے احتجاج کا آغاز کیا جائے گا جبکہ 23 دسمبر کو احتجاج کو وسیع کیا جائے گا۔

چوہدری منظور نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری 23 دسمبر کو مقرر کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، اور حل نجکاری نہیں بلکہ فضائی بیڑے میں نئے جہازوں کا اضافہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں لیز پر جہاز حاصل کرنا عام ہے اور بیرون ممالک کے پاکستانی سرمایہ کار پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے پی آئی اے میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔

چوہدری منظور نے مزید کہا کہ پی آئی اے قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہے اور حکومت نے کبھی سبسڈی یا گرانٹ نہیں دی، بلکہ قرض دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ناکامی کے بعد قوانین میں تبدیلی کر کے پی آئی اے کو من پسند افراد کے لیے فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور پیپلز یونٹی آف پی آئی اے کو جان بوجھ کر نجکاری کے عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے