بھارت کی آبی جارحیت، دریائے چناب میں اچانک پانی کا ریلہ چھوڑ کر گندم کی فصل کو نشانہ بنایا گیا

لاہور/ہیڈ مرالہ۔ بھارت نے ایک بار پھر آبی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دریائے چناب میں اچانک پانی کا بڑا ریلہ چھوڑ دیا جس کے باعث پانی کا بہاؤ تیزی سے بڑھ کر 58 ہزار 300 کیوسک تک پہنچ گیا۔ حکام کے مطابق بھارت کی جانب سے ڈیموں کو اچانک خالی کرنے کا یہ اقدام پاکستان کی فصلوں، خصوصاً گندم کی فصل کو نقصان پہنچانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے مبینہ طور پر اپنی آبی حکمتِ عملی کے تحت پہلے ڈیموں میں جمع پانی اچانک چھوڑا جس سے نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال اور فصلوں کو نقصان کا خدشہ پیدا ہوا، جبکہ اب اگلے مرحلے میں ڈیم دوبارہ بھرے جائیں گے، جس سے دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ آنے والے دنوں میں تقریباً صفر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی کا اچانک بڑھ جانا اور پھر اچانک کم ہو جانا نہ صرف آبپاشی کے نظام کو متاثر کرتا ہے بلکہ کسانوں کے لیے سنگین مسائل بھی پیدا کرتا ہے، جسے انہوں نے “آبی دہشت گردی” قرار دیا ہے۔

ادھر واپڈا کے ترجمان کی جانب سے آج صبح 6 بجے کی جاری کردہ رپورٹ میں ملک کے مختلف دریاؤں اور ڈیموں کی موجودہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 20 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 28 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح منگلا میں دریائے جہلم کی آمد 3 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 35 ہزار کیوسک رہا، جب کہ چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 32 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 35 ہزار کیوسک ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 63 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 56 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 7 ہزار 400 کیوسک ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ تربیلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1490.27 فٹ اور ذخیرہ 26 لاکھ 68 ہزار ایکڑ فٹ ہے، جبکہ منگلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1212.10 فٹ اور ذخیرہ 50 لاکھ 51 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ چشمہ ریزروائر میں موجودہ پانی کی سطح 646.60 فٹ اور ذخیرہ 1 لاکھ 97 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزروائرز میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 79 لاکھ 16 ہزار ایکڑ فٹ تک پہنچ چکا ہے۔ ترجمان واپڈا کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات پر پانی کی آمد و اخراج 24 گھنٹے کے اوسط بہاؤ کی بنیاد پر شمار کیا جاتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی آبی رویہ خطے میں ماحولیات، زراعت اور آبی وسائل کے استحکام کے لیے شدید خطرہ بنتا جا رہا ہے، جس پر عالمی برادری کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں کسانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت کی اس آبی ہیرا پھیری سے سردیوں کی گندم کی فصل کو بڑے پیمانے پر نقصان ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے