کولمبو (کیو این این ورلڈ) آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ہائی وولٹیج معرکے میں پاکستان کے خلاف بھارتی بیٹنگ لائن کی دوسری وکٹ 88 رنز کے مجموعی اسکور پر گر گئی ہے، تاہم بھارتی ٹیم نے جارحانہ کھیل برقرار رکھتے ہوئے 10 اوورز کے اختتام پر 92 رنز بنا لیے ہیں۔ کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے اس میچ میں پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر بھارت کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی، جس کا آغاز پاکستان کے لیے انتہائی شاندار رہا جب خود کپتان نے پہلے ہی اوور میں ابھیشیک شرما کو صفر پر آؤٹ کر دیا تھا۔ اس ابتدائی کامیابی کے بعد بھارتی بیٹرز نے جم کر بیٹنگ کی اور تیزی سے اسکور بورڈ کو آگے بڑھایا، لیکن 88 کے مجموعے پر دوسری وکٹ گرنے سے پاکستانی بولرز کو ایک بار پھر میچ میں واپسی کا موقع مل گیا ہے۔ ٹاس کے وقت دونوں کپتانوں کا ایک دوسرے سے ہاتھ نہ ملانا بھی اس ہائی پروفائل میچ میں چھائے ہوئے تناؤ کی واضح عکاسی کر رہا ہے۔
پاکستان نے اس اہم مقابلے کے لیے اپنے وننگ کمبی نیشن کو برقرار رکھتے ہوئے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے اور بابر اعظم، شاہین آفریدی، ابرار احمد اور عثمان طارق جیسے اہم کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اتری ہے، جبکہ بھارتی ٹیم نے دو تبدیلیاں کرتے ہوئے ابھیشیک شرما اور کلدیپ یادو کو پلیئنگ الیون کا حصہ بنایا ہے۔ بھارتی بیٹنگ لائن کو خاص طور پر اسپنر عثمان طارق کے منفرد بولنگ ایکشن کے حوالے سے خدشات تھے، جس کے لیے انہوں نے نیٹ سیشنز میں سخت مشقیں بھی کیں، مگر فی الحال بھارتی بیٹرز پاکستانی بولنگ اٹیک کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے ایک بڑا ہدف سیٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کولمبو میں بولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ کے شعبوں میں مہارت کا کڑا امتحان جاری ہے جہاں دونوں ٹیمیں برتری حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔
میچ کے نصف مرحلے تک بھارت کی جانب سے 92 رنز بننے کے بعد اب تمام تر نظریں بقیہ 10 اوورز پر جمی ہوئی ہیں، جہاں پاکستانی شاہینوں کی کوشش ہوگی کہ وہ مزید وکٹیں حاصل کر کے بھارتی رنز کی رفتار کو بریک لگائیں۔ اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین کی سانسیں ہر گیند کے ساتھ تھم رہی ہیں اور گراؤنڈ میں موجود کشیدگی اور جوش و خروش عروج پر ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پاکستانی اسپنرز مڈل اوورز میں بھارتی مڈل آرڈر کو قابو کرنے میں کامیاب رہے تو وہ بھارت کو ایک قابلِ تعاقب مجموعے تک محدود کر سکتے ہیں۔ روایتی حریفوں کے درمیان اعصاب کا یہ بڑا دنگل اب اپنے فیصلہ کن اور دلچسپ مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔