نئی دہلی / جودھ پور (کیو این این ورلڈ) پاکستان سے ملحقہ بھارتی ریاست راجستھان کے سرحدی اضلاع میں بھارتی فضائیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر جنگی مشقوں کے آغاز نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یہ محض معمول کی تربیتی سرگرمیاں ہیں یا کسی ممکنہ کارروائی کی تیاری؟

بھارتی فضائیہ (IAF) نے جودھ پور، باڑمیر اور جیسلمیر کے سرحدی علاقوں میں 5 مارچ سے 12 مارچ 2026 تک خصوصی آپریشنل مشقوں کا اعلان کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے نوٹس ٹو ایئرمین (NOTAM) جاری کرتے ہوئے متعلقہ فضائی حدود کو مخصوص قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس عرصے کے دوران سویلین اور کمرشل پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ فوجی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکیں۔

دفاعی ذرائع کے مطابق مشقوں کا دائرہ کار تقریباً 200 سے 300 کلومیٹر طویل سرحدی پٹی پر محیط ہے اور اہم سرگرمیاں بین الاقوامی سرحد سے 20 سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر انجام دی جا رہی ہیں۔ یہ علاقے پاکستانی شہروں رحیم یار خان، بہاولپور اور سندھ کے جنوبی اضلاع کے قریب واقع ہیں، جس کے باعث سرحد کے دونوں جانب نگرانی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان نے بھی اپنے فضائی نگرانی اور فوری ردعمل کے نظام کو متحرک کر دیا ہے۔

ان مشقوں میں جدید ترین لڑاکا طیارے حصہ لے رہے ہیں جن میں Dassault Rafale، Sukhoi Su-30MKI اور HAL Tejas شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہیلی کاپٹرز اور بغیر پائلٹ کے فضائی نظام (ڈرونز) کو بھی مشقوں کا حصہ بنایا گیا ہے۔ تربیتی سرگرمیوں میں فضائی لڑائی کی مشقیں، زمین پر اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں، لائیو فائر ڈیمانسٹریشن، پریسیژن گائیڈڈ ہتھیاروں کا استعمال اور مختلف فضائی پلیٹ فارمز کے درمیان مربوط آپریشن شامل ہیں۔

بھارتی حکام ان سرگرمیوں کو معمول کی جنگی تیاری کا حصہ قرار دے رہے ہیں اور کسی فوری خطرے یا مخصوص ہدف سے ان کا تعلق جوڑنے سے گریز کر رہے ہیں۔ تاہم دفاعی مبصرین کے مطابق مشقوں کا وقت، پیمانہ اور سرحد سے قربت ایسے عوامل ہیں جو انہیں معمول سے زیادہ اہم بنا دیتے ہیں۔

ہوابازی کے شعبے سے وابستہ اداروں کو متبادل فضائی راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ سویلین پروازیں متاثر نہ ہوں۔ اس پیش رفت نے خطے میں اسٹریٹجک چوکسی کو مزید بڑھا دیا ہے اور سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ سرگرمیاں محض دفاعی تیاری ہیں یا کسی ممکنہ پیش رفت کا پیش خیمہ؟

فی الحال دونوں ممالک کی جانب سے باضابطہ سطح پر کشیدگی میں اضافے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سرحدی علاقوں میں فوجی سرگرمیوں کے باعث علاقائی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے