نیویارک (کیو این این ورلڈ) امریکا میں مقیم سکھ علیحدگی پسند رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی ناکام سازش کے کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بھارتی شہری نکھل گپتا نے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں اپنے خلاف عائد تمام سنگین الزامات قبول کر لیے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران نکھل گپتا نے اعتراف کیا کہ اس نے بھارتی حکومت کے ایک اہم عہدیدار کی ایما پر نیویارک میں قتل کی منصوبہ بندی کی، کرائے کے قاتل سے ساز باز کی اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم کا ارتکاب کیا۔ امریکی استغاثہ کے مطابق ان جرائم کے اعتراف کے بعد نکھل گپتا کو وفاقی قوانین کے تحت تقریباً 40 برس تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نکھل گپتا کو جون 2023 میں چیک جمہوریہ سے گرفتار کرنے کے بعد 2024 میں امریکا کے حوالے کیا گیا تھا۔ عدالتی دستاویزات اور بلوم برگ کی رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ نکھل گپتا کو بھارتی انٹیلی جنس ادارے ‘را’ سے منسلک آفیسر آکاش یادیو نے یہ ٹاسک دیا تھا۔ نکھل گپتا، جو ایک بزنس مین ہے، بھارت میں دھوکہ دہی کے متعدد مقدمات کا سامنا کر رہا تھا اور اسے ان مقدمات سے بریت کی یقین دہانی کے عوض امریکا میں سکھ رہنما کو نشانہ بنانے پر مجبور کیا گیا۔ امریکی انٹیلی جنس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس سازش کو ناکام بنایا، جس میں واٹس ایپ پیغامات اور ای میلز کے ذریعے ہتھیاروں کی فراہمی اور ہدف کی معلومات کا تبادلہ کیا گیا تھا۔

اس کیس نے بھارت کی مودی سرکار کو عالمی سطح پر شدید سبکی کا نشانہ بنایا ہے، کیونکہ ابتدائی طور پر ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا گیا تھا، تاہم اب حقائق سامنے آنے پر بھارت نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اس کے ایجنٹ ممکنہ طور پر اس سازش میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نکھل گپتا اور آکاش یادیو کا تعلق کینیڈا میں خالصتان تحریک کے رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے بھی جڑا ہوا ہے، جبکہ ان ملزمان نے نیپال اور پاکستان میں بھی اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کیس سکھ برادری کے خلاف عالمی سطح پر ہونے والے مبینہ حملوں کے وسیع تر پس منظر کا حصہ ہے جس پر امریکا نے گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

خالصتان تحریک کے سرگرم رہنما اور امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنوں، جو ‘سکھس فار جسٹس’ کے بانی ہیں، بھارتی ریاست پنجاب کی آزادی کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ مودی سرکار کی جانب سے غیر ملکی سرزمین پر اس طرح کی دہشت گردانہ کارروائیوں اور دراندازی نے پاکستان، نیپال، امریکا اور کینیڈا کے ساتھ بھارت کے سفارتی تعلقات کو انتہائی کشیدہ کر دیا ہے۔ عالمی مبصرین اس اعترافِ جرم کو بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کا دستاویزی ثبوت قرار دے رہے ہیں۔ مقدمے کی مزید تفصیلات اور حتمی سزا کا اعلان آئندہ دنوں میں متوقع ہے جس پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے