کولمبو (کیو این این ورلڈ) آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ہائی وولٹیج مقابلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے، جہاں بھارت نے 17 اوورز کے اختتام پر 4 وکٹوں کے نقصان پر 140 رنز بنا لیے ہیں۔ کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے اس میچ میں پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر بھارت کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی، جس کا آغاز قومی ٹیم کے لیے انتہائی شاندار رہا جب خود کپتان نے پہلے ہی اوور میں بھارتی اوپنر ابھیشیک شرما کو صفر پر پویلین بھیج دیا تھا۔ تاہم بھارت کی جانب سے ایشان کشن نے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے 40 گیندوں پر 77 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی، جنہیں بالآخر صائم ایوب نے بولڈ کر کے پاکستان کو اہم کامیابی دلائی۔ ٹاس کے موقع پر دونوں کپتانوں کے درمیان روایتی مصافحہ نہ ہونا اس بڑے ٹاکرے میں موجود تناؤ اور سیاسی کشیدگی کو واضح کر رہا ہے۔
پاکستان نے اس اہم معرکے کے لیے اپنے وننگ کمبی نیشن پر بھروسہ کرتے ہوئے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے اور شاہین آفریدی، ابرار احمد، شاداب خان اور محمد نواز جیسے بولرز کے ساتھ بھارت کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ بھارتی ٹیم نے ابھیشیک شرما اور کلدیپ یادو کو شامل کر کے دو تبدیلیاں کی ہیں۔ بھارتی بیٹنگ لائن کو خاص طور پر پاکستانی اسپنر عثمان طارق کے منفرد بولنگ ایکشن سے سخت پریشانی کا سامنا ہے، جس کے لیے بھارتی بیٹرز نے خصوصی نیٹ سیشنز بھی کیے تھے، تاہم پاکستانی بولرز مڈل اوورز میں وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کر کے بھارتی رنز کی رفتار کو کنٹرول کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ کولمبو میں بولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ کے شعبوں میں دونوں ٹیموں کی مہارت اور اعصاب کا کڑا امتحان جاری ہے جہاں ہر گیند پر میچ کی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔
میچ کے آخری لمحات میں اب تمام تر نظریں پاکستانی بولنگ اٹیک پر جمی ہوئی ہیں کہ وہ بقیہ اوورز میں بھارت کو کتنے مجموعے تک محدود رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین کی سنسنی خیز مقابلے پر نظریں مرکوز ہیں اور گراؤنڈ میں جوش و خروش دیدنی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستانی شاہینوں نے ڈیتھ اوورز میں نپی تلی بولنگ کا مظاہرہ کیا تو وہ بھارت کو ایک قابلِ تعاقب ہدف تک روک سکتے ہیں، بصورتِ دیگر بھارتی مڈل آرڈر ایک بڑا ٹوٹل سجانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روایتی حریفوں کے درمیان اعصاب کا یہ معرکہ اب اپنے انتہائی دلچسپ اور فیصلہ کن مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے۔