2026 کی ورلڈ اِن اکوالٹی رپورٹ کے مطابق بھارت آمدنی میں عدم توازن رکھنے والا دنیا کا چھٹا بڑا ملک بن گیا ہے، جبکہ پاکستان اس فہرست میں 24 واں نمبر رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقا دنیا کا سب سے زیادہ آمدنی میں عدم توازن رکھنے والا ملک ہے، جہاں ٹاپ 10 فیصد طبقہ مجموعی آمدنی کا 66 فیصد حصہ حاصل کرتا ہے جبکہ باقی 50 فیصد نچلے طبقے کو صرف 6 فیصد آمدنی ملتی ہے۔
لاطینی امریکہ کے ممالک جیسے برازیل، میکسیکو، چلی اور کولمبیا میں بھی آمدنی کا عدم توازن نمایاں ہے، جہاں امیر طبقے کے 10 فیصد افراد تقریباً 60 فیصد مجموعی آمدنی کا مالک ہیں۔
رپورٹ میں یورپی ممالک کے حالات متوازن قرار دیے گئے ہیں۔ سوئیڈن اور ناروے میں نچلے 50 فیصد طبقے کو مجموعی آمدنی کا 25 فیصد حصہ حاصل ہے جبکہ ٹاپ 10 فیصد طبقہ صرف 30 فیصد سے کم کماتا ہے۔ آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی، جاپان اور برطانیہ جیسی ترقی یافتہ معیشتیں متوسط زمرے میں آتی ہیں، جہاں ٹاپ 10 فیصد افراد مجموعی آمدنی کا تقریباً 33 سے 47 فیصد حصہ حاصل کرتے ہیں اور نچلے 50 فیصد طبقہ 16 سے 21 فیصد آمدنی پاتا ہے۔
ایشیا میں آمدنی کی تقسیم ملی جلی ہے۔ چین، پاکستان اور بنگلادیش میں ٹاپ 10 فیصد طبقہ مجموعی آمدنی کا بالترتیب 43، 42 اور 41 فیصد حصہ حاصل کرتا ہے، جبکہ نچلے 50 فیصد طبقہ 14، 19 اور 19 فیصد حصہ پاتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ اقتصادی طاقت رکھنے والا بھارت آمدنی کی غیر منصفانہ تقسیم میں چھٹے نمبر پر ہے، جبکہ ترکی ساتویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کی پوزیشن نسبتاً بہتر ہے، لیکن عالمی معیار کے لحاظ سے عدم توازن ابھی بھی نمایاں ہے۔
