اسلام آباد (کیو این این ورلڈ)بھارت، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اس وقت ہندوتوا کی بنیاد پر اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث عالمی میڈیا کی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ معتبر امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) نے یکم جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک اوپینیئن سٹوری میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ اس آرٹیکل کا عنوان "The Hindu Attacks on India’s Christians” ہے، جس میں مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مذہبی اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کو ہندو انتہا پسندی، یعنی ہندوتوا سیاست، کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ آرٹیکل کے مصنف تنکو وراداراجن کے مطابق بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد میں "breathtaking rise” دیکھنے میں آیا ہے، جو بی جے پی کی ہندو بالادستی پر مبنی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی یہ اوپینیئن سٹوری مودی حکومت کے سیکولر دعوؤں کے خلاف ایک مکمل چارج شیٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آرٹیکل کے مطابق بھارت کی تقریباً 80 فیصد آبادی ہندو ہے، تاہم ہندوتوا کے انتہا پسند عناصر عیسائیت کو ایک "خیالی خطرہ” سمجھتے ہیں اور تبدیلی مذہب کو روکنے کے نام پر اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ بھارت کی 12 ریاستوں میں نافذ اینٹی کنورژن قوانین، جو "لالچ” یا "دھوکہ” کے ذریعے مذہب تبدیل کرنے پر پابندی عائد کرتے ہیں، عملی طور پر عیسائیوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

آرٹیکل میں کرسمس 2025 کو "majoritarian assertion کا قومی فلیش پوائنٹ” قرار دیتے ہوئے متعدد واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اتر پردیش میں بی جے پی کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے کرسمس کے روز اسکول کھلے رکھنے کے احکامات جاری کیے، جبکہ چرچوں کے باہر جمع ہجوم نے "Death to Christian missionaries” کے نعرے لگائے اور ہنومان چالیسا پڑھی۔ مدھیہ پردیش میں ایک بی جے پی رہنما چرچ میں داخل ہوا، کرسمس کی دعوت میں خلل ڈالا اور ایک نابینا نوجوان خاتون پر تشدد کیا، جن پر ہندوؤں کو عیسائی بنانے کا الزام عائد کیا گیا۔ چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں ہندو انتہا پسندوں نے ایک مال میں کرسمس کی سجاوٹ کو نقصان پہنچایا اور سانتا کلاز کی مورتیوں کو لوہے کی سلاخوں سے توڑا۔ انسانی حقوق کی تنظیم Citizens for Justice and Peace نے اس عمل کو "symbolic violence” قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد مسیحی برادری کی مرئیت کو ناقابلِ قبول ثابت کرنا ہے۔ آرٹیکل کے مطابق ایسے واقعات تقریباً تمام بی جے پی کے زیرِ انتظام ریاستوں میں رپورٹ ہوئے۔

اعداد و شمار کے حوالے سے، آرٹیکل یونائیٹڈ کرسچن فورم (UCF) کی رپورٹ کا حوالہ دیتا ہے، جس کے مطابق 2014 میں عیسائیوں پر حملوں کی تعداد 139 تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 834 ہو گئی، جبکہ 2025 میں نومبر تک 706 واقعات ریکارڈ کیے جا چکے تھے۔ اسی طرح امریکی کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم (USCIRF) کی 2025 کی رپورٹ میں بھارت کو "country of particular concern” قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے، کیونکہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیاں بغیر کسی سزا کے مسلسل جاری ہیں۔ رپورٹ میں اگست 2024 میں چھتیس گڑھ کا وہ واقعہ بھی بطور مثال پیش کیا گیا ہے، جہاں 200 سے زائد ہندوؤں کے ہجوم نے 18 عیسائی خاندانوں پر حملہ کیا اور پولیس نے مداخلت نہیں کی۔

آرٹیکل میں وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی تنقید کی گئی ہے کہ وہ دہلی میں ایک چرچ میں ماس میں شریک ہو کر "love, peace and compassion” کی بات تو کرتے ہیں، مگر ملک بھر میں ہونے والے تشدد کی کھل کر مذمت سے گریز کرتے ہیں۔ آرٹیکل کے مطابق یہ خاموشی انتہا پسند عناصر کے لیے ایک واضح اشارہ ہے کہ انہیں کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کا مرکزی مؤقف یہ ہے کہ مودی کے دورِ حکومت میں بھارت کا سیکولرازم محض ایک دکھاوا بن کر رہ گیا ہے اور حکومت یا تو ہندو انتہا پسندوں کو روکنے میں ناکام ہے یا اس میں سنجیدہ دلچسپی نہیں رکھتی۔

عالمی میڈیا کی دیگر رپورٹس بھی وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کو تقویت دیتی ہیں۔ International Christian Concern (persecution.org) کی 29 دسمبر 2025 کی رپورٹ کے مطابق کرسمس کے ہفتے کے دوران مختلف بھارتی ریاستوں میں 80 سے زائد تشدد، نفرت انگیز تقاریر اور تناؤ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن کی ذمہ داری ہندو انتہا پسند گروہوں اور بی جے پی کی مبینہ حمایت پر عائد کی گئی۔ Christian Daily کی دو دن قبل شائع ہونے والی رپورٹ میں کرسمس کے موقع پر "wave of violence” کا ذکر کیا گیا اور ایک نابینا خاتون پر بی جے پی کے ڈسٹرکٹ وائس پریزیڈنٹ کے حملے کو اجاگر کیا گیا، جبکہ مودی حکومت کو مذہبی عدم برداشت کی پالیسیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

Nikkei Asia نے تین دن قبل شائع ہونے والے آرٹیکل میں کہا کہ بھارت میں عیسائی اب کرسمس بھی حملوں کے خوف میں مناتے ہیں، جو ہندوتوا کی بڑھتی ہوئی شدت کا نتیجہ ہے، جبکہ مودی کی خاموشی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ The Diplomat کی چار دن قبل شائع رپورٹ میں 2025 کو اقلیتوں، بالخصوص عیسائیوں، دلتوں اور مسلمانوں کے لیے ایک اور برا سال قرار دیا گیا، جہاں ہندوتوا سیاست نے انسانی حقوق کو شدید نقصان پہنچایا۔ ہسپانوی خبر رساں ادارے EFE (Spanish News Agency) نے 26 دسمبر 2025 کی خبر میں ہندو نیشنلسٹ گروہوں کی جانب سے ونڈلزم، چرچوں پر حملوں اور عوامی خلل کا ذکر کیا، جو پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا۔

اسی طرح TRT World کی 25 دسمبر 2025 کی رپورٹ میں کرسمس کیرول گانے والوں پر حملوں، سجاوٹ کی توڑ پھوڑ اور متعدد ریاستوں میں خوف و ہراس کی فضا کا تذکرہ کیا گیا اور ان واقعات کو مودی حکومت کی ہندوتوا پالیسیوں سے جوڑا گیا۔ Open Doors (World Watch List 2025) کی ایک رپورٹ میں بھی بھارت کو ہندو ریاست بنانے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے اور مسلمانوں و عیسائیوں کے تحفظ میں ناکامی پر نریندر مودی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگرچہ The Guardian کی رپورٹ 2017 کی ہے، تاہم اس میں مودی کے دور میں عیسائیوں پر حملوں میں اضافے کی نشاندہی کی گئی، جو موجودہ صورتحال سے مماثلت رکھتی ہے۔ ALM Intelligence کی چھ دن قبل شائع رپورٹ میں کرسمس پر ہونے والے حملوں کو ہندوتوا تشدد کا حصہ قرار دیتے ہوئے حکومت کے ردعمل کو ناکافی بتایا گیا۔

عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی ان رپورٹس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نریندر مودی کی ہندوتوا سیاست نہ صرف بھارت کی اندرونی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ USCIRF اور دیگر اداروں کے مطابق اگر بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی نہ بنایا گیا تو یہ ملک ایک جمہوری ریاست کے بجائے بتدریج "اکثریتی ریاست” کی شکل اختیار کرتا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے