پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور پارٹی کے بانی عمران خان کی بہنوں کو آج اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہ مل سکی، جس کے بعد انہوں نے جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر دھرنا دے دیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات کا مقررہ وقت ختم ہو گیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے بہنوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ علیمہ خان نے دھرنا دینے والے کارکنان کو پرسکون رہنے کی ہدایت کی اور انہیں ناکے سے پیچھے رہنے کہا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے ساتھ ہمارا کوئی تصادم نہیں، پولیس والے ہمارے بھائی ہیں اور ہمارے ساتھ اچھا سلوک کر رہے ہیں، کارکنان کو اس لیے دور کر رہی ہوں کیونکہ خواتین بھی موجود ہیں اور پولیس اہلکار پریشان ہیں۔

علیمہ خان نے مزید کہا کہ ملاقات کی اجازت عرصے سے نہیں دی جا رہی، اور ان کی بہن نے پچھلی ملاقات میں کوئی سیاسی گفتگو نہیں کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بانی پی ٹی آئی کو کس کے احکامات پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، اور ملاقات کے لیے پچھلے ایک ماہ سے کوششیں جاری ہیں۔

دھرنے میں قومی اسمبلی کے اراکین جنید اکبر، شاہد خٹک، خیبر پختونخوا کی کابینہ کے اراکین مینا خان اور شفیع جان سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی موجود ہیں۔ اڈیالہ جیل جانے والا راستہ بند ہے اور پولیس کی بھاری نفری فیکٹری ناکے پر تعینات ہے۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ قانونی خلاف ورزی کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا ایک فیصد بھی امکان نہیں، ملاقات کسی کی خواہش پر نہیں بلکہ قانونی بنیادوں پر بند کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے