اسلام آباد (کیو این این ورلڈ)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت سے متعلق گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور ریاستی اداروں کو سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر حالات یہی رہے اور کارکنان اجازت کے بغیر سڑکوں پر نکل آئے تو انہیں روکنا ممکن نہیں ہوگا، اس لیے بہتر ہے کہ سب کچھ بھلا کر آگے بڑھا جائے اور عمران خان کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائے۔

اسلام آباد میں ہونے والی پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر، سلمان اکرم راجا، شفیع جان اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس موقع پر جنید اکبر نے کہا کہ عمران خان نے کبھی اپنی بیماری کا ذکر نہیں کیا، لیکن اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ان کی صحت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی بینائی کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اگر عمران خان نابینا ہوئے تو اس کے اثرات بہت دور تک جائیں گے۔

جنید اکبر نے کہا کہ پارٹی کے ایک رکن قومی اسمبلی عادل بزائی لیفوما کے مرض میں مبتلا ہیں اور ڈاکٹروں نے بیرون ملک علاج تجویز کیا ہے، مگر انہیں اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فیصلے کہیں اور سے ہو رہے ہیں اور منتخب نمائندے بے بس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف مزید ایف آئی آرز، وارنٹس اور دباؤ ہمیں پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔

انہوں نے انٹیلی جنس اداروں کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اداروں کا کام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، نہ کہ سیاسی انجینئرنگ۔ جنید اکبر نے کہا کہ وہ پرو اسٹیبلشمنٹ ہیں، لیکن ایسا رویہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جس دن پارٹی قیادت کارکنان کے آگے سے ہٹ گئی، اس دن کارکنان کو کوئی نہیں روک سکے گا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق جو رپورٹ سامنے آئی ہے وہ نہایت تشویشناک ہے، جس کے مطابق ان کی بینائی محض 15 فیصد رہ گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ذاتی معالج اور اہل خانہ کو اعتماد میں لیے بغیر عمران خان کو اسپتال منتقل کر کے انجکشن لگایا گیا، جو جیل مینوئل کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ماضی میں نواز شریف کی صحت کے معاملے پر عدلیہ اور میڈیا نے آواز اٹھائی، جبکہ آج عمران خان کے معاملے پر خاموشی اختیار کی گئی ہے، حالانکہ عمران خان نے خود بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نواز شریف کو علاج کے لیے باہر جانے دیا تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی کی کور کمیٹی، پارلیمانی کمیٹی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کا اجلاس ہو رہا ہے، جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عمران خان نے تین ماہ سے آنکھ کی تکلیف برداشت کی، لیکن بروقت علاج نہیں ہونے دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب ایک آنکھ کی بینائی شدید متاثر ہوئی تو اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو تبدیل کر دیا گیا۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ایک سال سے مقدمات سننے سے قاصر ہے اور ایک بڑے سیاسی لیڈر کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور جن معالجین پر اعتماد ہے انہیں علاج کی اجازت دی جائے۔ سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ اب یہ معاملہ صرف ایک شخص کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے اور ہر صوبے کے عوام کو اس پر آواز بلند کرنا ہوگی۔

پی ٹی آئی قیادت نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے، جیل قوانین کی پاسداری کی جائے اور ملک میں سیاسی استحکام کے لیے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو فی الفور رہا کیا جائے، بصورت دیگر حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے