اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) اڈیالا جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور جیل سہولیات سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی محض 15 فیصد رہ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک ان کی بینائی بالکل نارمل تھی، تاہم جیل میں طبی غفلت اور بروقت علاج نہ ہونے کے باعث ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا (کلاٹ) بن گیا، جس نے بینائی کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا معائنہ ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے کرایا جائے۔

رپورٹ میں عمران خان کے روزمرہ معمولات کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں، جس کے مطابق وہ صبح 9:45 پر ناشتہ کرتے ہیں، جس میں دلیہ، کافی اور کھجوریں شامل ہوتی ہیں، جبکہ ساڑھے گیارہ بجے سے ایک گھنٹہ قرآن پاک کی تلاوت اور پھر ورزش کرتے ہیں۔ دوپہر کا کھانا ان کا خاندان فراہم کرتا ہے جس میں گوشت، دالیں اور پھل شامل ہوتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی شام ساڑھے 5 بجے سے اگلی صبح 10 بجے تک اپنے سیل میں مقید رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی سیکیورٹی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم مطالعہ کے لیے کتب اور خراب ٹی وی کی درستی کا مطالبہ کیا ہے۔

جیل سیل کے معائنے کے دوران بتایا گیا کہ وہاں نگرانی کے لیے 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، مگر سیل کے اندر کوئی کیمرہ نہیں۔ عمران خان کے سیل میں ایک بیڈ، کرسی، میز، جائے نماز اور تسبیح موجود ہے، جبکہ تقریباً 100 کتابیں بھی میز پر رکھی گئی ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سیل کی کرسی غیر آرام دہ ہے اور کچن کی صفائی میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے شکایت کی کہ بینائی مدھم ہونے کی بارہا اطلاع کے باوجود جیل انتظامیہ نے مؤثر اقدامات نہیں کیے، جس کے نتیجے میں انہیں مستقل نقصان پہنچا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے