پشاور (کیو این این ورلڈ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ انہیں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ملاقات کی دعوت موصول ہوئی ہے اور وہ کل ہونے والی اس ملاقات میں صوبے کے حقوق اور سنگین مسائل کا مقدمہ بھرپور طریقے سے وفاق کے سامنے رکھیں گے۔ خیبر امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ہم اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے ہر فورم استعمال کریں گے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بدامنی کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔ تاہم انہوں نے وفاقی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ماضی میں وفاق نے آئی ڈی پیز (IDPs) کے لیے مختص اربوں روپے ہڑپ کیے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے متاثرین کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے تو وفاق کی جانب سے مجھ پر کرپشن کے بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں، لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور متاثرین کی بحالی کے لیے 100 ارب روپے تک فراہم کریں گے۔
اپنے خطاب کے دوران سہیل آفریدی نے سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں گورنر راج لگانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ یا تو عدالتوں کے ذریعے نااہل کرایا جائے گا یا پھر کسی اور طریقے سے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی تمام قبائلی اضلاع کا دورہ کریں گے تاکہ اسلام آباد میں مجوزہ دھرنے کے حوالے سے مقامی لوگوں کی رائے لی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔