کراچی (کیو این این ورلڈ/ڈاکٹربشیر بلوچ کی رپورٹ) کاٹھور کے قریب ایم نائن موٹروے پر آئل ٹینکر، مسافر بس اور متعدد گاڑیوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں 3 خواتین اور بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق یہ افسوسناک حادثہ گڈاپ لنک روڈ پر اس وقت پیش آیا جب ایک مسافر کوچ مبینہ طور پر غلط سمت سے آ رہی تھی کہ سامنے سے آنے والے ٹرک اور آئل ٹینکر سے جا ٹکرائی۔ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ تصادم کے نتیجے میں کئی افراد پل سے نیچے گر گئے، جبکہ گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو نکال کر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور ڈی آئی جی ٹریفک کراچی مظہر نواز شیخ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو جائے حادثہ اور اطراف کے علاقے کو محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے۔ آئل ٹینکر سے تیل کے ممکنہ اخراج کے خطرے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں اور کراچی روڈ ایکسیڈنٹ اینالسس ٹیم (کراٹ) کو بھی تحقیقات کے لیے طلب کر لیا گیا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور امدادی سرگرمیوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ ایس ایس پی ملیر نے 13 ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے اور پولیس کی بھاری نفری صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے موقع پر موجود ہے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران ایمبولینسز کی بلا تعطل رسائی کے لیے شاہراہ کو کلیئر کروا دیا گیا ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق حادثے کے بعد متاثرہ سڑک کو کلیئر کر کے ٹریفک کی روانی بحال کر دی گئی ہے، تاہم شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متبادل راستے اختیار کریں اور جائے وقوعہ پر غیر ضروری رش لگانے سے گریز کریں۔ کراچی ٹریفک پولیس کی ٹیمیں گاڑیوں کو متبادل راستوں کی جانب منتقل کرنے کے لیے متحرک ہیں۔ پولیس نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حادثے کے اصل اسباب کا تعین کیا جا سکے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
