چمن: (کیو این این ورلڈ) پاک افغان سرحد پر جاری کشیدہ صورتحال اور آپریشن “غضب للحق” کے تناظر میں ضلع چمن میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کے مطابق محکمہ صحت کی ہدایات پر ضلع بھر میں تمام ملازمین کی چھٹیاں فوری طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں اور مکمل الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈی ایچ او کا کہنا ہے کہ تمام میڈیکل آفیسرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر متعلقہ عملے کو فوری طور پر ڈیوٹی پر طلب کر لیا گیا ہے۔ اسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کو ہدایت کی گئی ہے کہ ادویات کا وافر ذخیرہ یقینی بنایا جائے، ضروری طبی آلات فعال رکھے جائیں اور ایمرجنسی وارڈز کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رکھا جائے۔
حکام کے مطابق ایمبولینس سروسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور سرحدی علاقوں کے قریبی طبی مراکز کو خصوصی طور پر فعال کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
یاد رہے کہ پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال کارروائیوں کے بعد پاکستان نے آپریشن “غضب للحق” شروع کر رکھا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مؤثر جوابی کارروائیوں میں افغان طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے جا چکے ہیں جبکہ اب تک 133 افغان طالبان جہنم واصل اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور عوام کو بلا ضرورت سرحدی علاقوں کا رخ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔