کراچی ( کیو این این ورلڈ/نامہ نگار ڈاکٹربشیراحمد بلوچ) سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور میونسپل کمشنر کے ایم سی کو باقاعدہ نوٹس جاری کر دیے ہیں، کمیشن نے دونوں اداروں سے عمارت کے قواعد و ضوابط اور اراضی کے استعمال سے متعلق تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے ڈی جی ایس بی سی اے سے کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز پر عمل درآمد کے حوالے سے سخت استفسار کیا ہے کہ گل پلازہ جیسی بلند و بالا عمارتوں میں بلڈنگ ریگولیشنز کو یقینی بنانا کس ادارے کی قانونی ذمہ داری ہے، کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979ء اور کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002ء کی روشنی میں ادارہ اپنے کردار اور ذمہ داریوں کی وضاحت متعلقہ قانونی شقوں کے ساتھ فراہم کرے۔
دوسری جانب کمیشن نے میونسپل کمشنر کے ایم سی سے گل پلازہ کی اراضی کے استعمال میں تبدیلی (چینج آف یوز) سے متعلق ریکارڈ طلب کیا ہے، کمیشن نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا کے ایم سی یا کسی بھی سابقہ متعلقہ ادارے کی جانب سے اس زمین کے مقصدِ استعمال میں تبدیلی کی کوئی منظوری دی گئی تھی یا نہیں، اس حوالے سے تمام تر دستاویزی ثبوت اور مکمل تفصیلات یکم اپریل تک جوڈیشل کمیشن سیکرٹریٹ میں جمع کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سانحہ گل پلازہ کی تحقیقاتی کارروائی کے دوران بلڈنگ کنٹرول اور لینڈ ڈپارٹمنٹ کے کردار کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے، کمیشن نے واضح کیا ہے کہ مقررہ تاریخ تک تمام ریکارڈ کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تحقیقاتی عمل کو شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جا سکے۔