گوجرانوالہ (کیو این این ورلڈ/بیورو چیف محمد رمضان نوشاہی) شہر میں تجاوزات مافیا نے ایک بار پھر اپنے پنجے گاڑھ لیے ہیں، جس کے باعث اندرون شہر کے بازاروں، مارکیٹوں اور شاہراہوں پر پیدل چلنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ عیدالفطر کے قریب آتے ہی دکانداروں نے ‘سیلف میڈ’ کرایہ داری کا نظام رائج کرتے ہوئے دکانوں کے سامنے سرکاری جگہوں اور خالی پلاٹوں کو بھاری کرایوں پر اسٹالز کے لیے دے دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ، پیرا فورس اور میونسپل کارپوریشن تجاوزات کے اس سیلاب کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہے ہیں۔
صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ عزیز کراس چوک سے ڈیوڑھا پھاٹک تک جی ٹی روڈ کے اطراف سروس روڈز پر آٹو مکینکس نے مستقل ڈیرے جما لیے ہیں۔ سڑکوں پر گہرے گڑھے کھود کر گاڑیوں کی مرمت کا کام سروس روڈ پر ہی کیا جا رہا ہے، جس سے ٹریفک کا بلاک رہنا اب روزانہ کا معمول بن چکا ہے۔ جی ٹی روڈ، کالج روڈ، گرجاکھ روڈ، حافظ آباد روڈ اور پسرور روڈ سمیت شہر کی تمام چھوٹی بڑی سڑکیں ٹھیلہ فروشوں اور عارضی تھڑوں کی وجہ سے سکڑ کر تنگ گلیوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔
تجاوزات کی زد میں صرف بڑی سڑکیں ہی نہیں بلکہ دال بازار، کھنڈ بازار، صرافہ بازار اور ریل بازار جیسے مصروف کاروباری مراکز بھی بری طرح متاثر ہیں۔ تاجروں نے اپنی دکانوں کے آگے سرکاری اراضی پر اسٹالز لگوا کر کرایہ وصول کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے خریداروں بالخصوص خواتین کا گزرنا محال ہو گیا ہے۔ شیرانوالہ باغ، سیالکوٹی اور گوندلانوالہ پھاٹک کے اطراف ٹھیلوں اور رکشوں کی بھرمار نے انتظامی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عید کی خریداری کے سیزن میں عوام کو اس اذیت سے نجات دلانے کے لیے فوری اور بلا امتیاز آپریشن کیا جائے۔