گوجرخان (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار شیخ ساجد قیوم) گوجرخان میں گوشت فروشوں نے انتظامیہ کی رٹ کو کھلے عام چیلنج کرتے ہوئے سرکاری نرخنامے کو عملاً ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا ہے۔ شہر بھر میں قصاب من مانے نرخوں پر گوشت فروخت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ چند روز قبل ہونے والی ہڑتال کے بعد جب قصابوں نے دکانیں کھولیں تو قیمتوں میں کمی کے بجائے مزید ہوشربا اضافہ کر دیا گیا، جس سے گوشت عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سرکاری ریٹ لسٹ میں گائے کے گوشت کی قیمت 900 روپے مقرر ہے مگر بازار میں یہ 1300 سے 1400 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح بکرے کا گوشت 1800 روپے کے سرکاری نرخ کے برعکس 2400 سے 2500 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخنامہ اب محض ایک نمائشی کاغذ بن کر رہ گیا ہے، جس پر عمل درآمد کرانے والا کوئی نہیں۔ ہڑتال کے بعد قصاب طبقہ مزید منہ زور ہو گیا ہے اور کھلے عام گاہکوں کو مہنگے داموں گوشت خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

شہریوں نے دعویٰ کیا ہے کہ قصابوں کے بااثر مقامی سیاسی شخصیات کے ساتھ مبینہ روابط اور مضبوط ووٹ بینک کے باعث انتظامیہ ان کے خلاف کارروائی سے کتراتی ہے۔ اس گٹھ جوڑ نے عام آدمی کو مہنگائی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، جبکہ انتظامیہ کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بااثر افراد کے سامنے قانون بے بس ہے تو پھر ریٹ لسٹ جاری کرنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔

گوجرخان کے رہائشیوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، چیف سیکریٹری اور کمشنر راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ گوجرخان میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی مہنگائی مکاؤ مہم کا عملی نفاذ یقینی بنایا جائے اور سرکاری نرخنامے پر سختی سے عمل کرایا جائے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف مل سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے