اسلام آباد (کیو این این ورلڈ)پاکستان میں بجلی صارفین کے لیے ایک اور مالی جھٹکا آنے والا ہے، کیونکہ حکومت اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے بجلی کے نرخ بڑھانے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو بھیج دی ہے۔
ذرائع کے مطابق درخواست ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت دسمبر 2025 کے بجلی نرخوں میں اضافے کے لیے دائر کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو ایک ماہ کے لیے فی یونٹ 48 پیسے اضافی ادا کرنے پڑ سکتے ہیں۔ نیپرا اس درخواست پر عوامی سماعت بھی کرے گا۔
سی پی پی اے کی رپورٹ کے مطابق دسمبر میں مجموعی طور پر 8.487 ارب یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ 8.208 ارب یونٹس تقسیم کار کمپنیوں کو فراہم کی گئی۔ اوسط پیداواری لاگت 9.62 روپے فی یونٹ رہی۔ توانائی کے ذرائع میں نیوکلیئر پاور سب سے بڑا ذریعہ رہا (25.05 فیصد)، اس کے بعد ہائیڈل پاور 18.07 فیصد، درآمد شدہ ایل این جی 17.24 فیصد، مقامی کوئلہ 13.99 فیصد، درآمدی کوئلہ 10.13 فیصد اور قدرتی گیس 11.20 فیصد رہی۔
اگر نیپرا درخواست منظور کر لیتا ہے تو یہ اضافہ صارفین کے بجلی بل میں اگلے ماہ کے لیے شامل کر دیا جائے گا، جس سے پہلے ہی مہنگائی سے پریشان عوام پر مزید مالی بوجھ پڑے گا۔
اس سے قبل حکومت نے صنعتی اور زرعی شعبے کے لیے بجلی سستی کرنے کا منصوبہ بھی منظور کرایا تھا تاکہ کاروباری لاگت کم کی جا سکے اور معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے اعلان کیا تھا کہ تین سالہ صنعتی پیکج سے کاروباری اداروں کو اعتماد اور استحکام حاصل ہوگا اور ڈیٹا سینٹرز و کرپٹو مائننگ جیسی نئی صنعتیں بھی اس سے فائدہ اٹھائیں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی سے پریشان عوام پر بجلی نرخوں میں اضافہ حکومت کی جانب سے ایک نیا اقتصادی جھٹکا ہے، اور صارفین کے لیے ماہانہ بجٹ مزید دباؤ میں آ جائے گا۔