وشنگٹن (کیو این این ورلڈ) بھارت سے چلنے والے منظم سائبر فراڈ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہو گیا ہے، جس نے سینکڑوں امریکی شہریوں کو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر دیا۔ امریکی حکام کی تحقیقات کے مطابق بھارت میں قائم تین کال سینٹرز نے 650 سے زائد امریکی شہریوں کو نشانہ بنایا اور 48 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم ہتھیا لی۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی ریاست میری لینڈ میں مالی فراڈ کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ نیٹ ورک برسوں سے بھارت سے منظم انداز میں کام کر رہا تھا۔ جعل ساز خود کو امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں، جن میں ایف بی آئی اور آئی آر ایس شامل ہیں، کا اہلکار ظاہر کر کے شہریوں کو خوف میں مبتلا کرتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق متاثرین کو ای میلز، فون کالز اور جعلی پاپ اپ پیغامات کے ذریعے یہ باور کرایا جاتا تھا کہ ان پر ٹیکس واجب الادا ہے، ان کے کمپیوٹر میں وائرس موجود ہے یا انہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خوف اور دباؤ کے اس ماحول میں شہریوں سے فوری طور پر رقم کا مطالبہ کیا جاتا تھا، جو وائر ٹرانسفر، کریپٹو کرنسی، گفٹ کارڈز اور یہاں تک کہ سونے کی سلاخوں کی صورت میں بھی وصول کی گئی۔

ایف بی آئی کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ایک خاتون متاثرہ شہری سے اکیلے 1.7 ملین ڈالر لوٹے گئے، جبکہ بڑی تعداد میں متاثرین بزرگ افراد تھے جن کی عمر بھر کی بچت اس جعل سازی کی نذر ہو گئی۔ صرف میری لینڈ میں 24 سے زائد افراد کو 6.2 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

اے بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ شواہد پر بھارتی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے دسمبر 2025 میں تین کال سینٹرز پر چھاپے مارے، انہیں بند کر دیا اور فراڈ نیٹ ورک کے چھ مرکزی کرداروں کو گرفتار کر لیا، جبکہ بڑی مقدار میں کمپیوٹرز، موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات بھی تحویل میں لے لیے گئے۔

ایف بی آئی بالٹی مور فیلڈ آفس کے اسپیشل ایجنٹ انچارج جمی پال کا کہنا تھا کہ اگر متاثرین بروقت رپورٹ نہ کرتے تو اس نیٹ ورک کو بے نقاب کرنا ممکن نہ ہوتا۔ ان کے مطابق امریکی اور بھارتی اداروں کے باہمی تعاون سے اس کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق، جیسا کہ رائٹرز اور دیگر عالمی میڈیا ادارے بھی بارہا نشاندہی کر چکے ہیں، بھارت میں سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کمزور نگرانی، ناقص ضابطہ کاری اور انتظامی ناکامیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ریاستی اداروں کی جعلی شناخت کا کھلے عام استعمال بھارت کے سکیورٹی اور قانونی نظام پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

عالمی مبصرین کے مطابق اگر ایسے نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اور مستقل کارروائی نہ کی گئی تو بھارت کا تشخص ایک ذمہ دار ڈیجیٹل ریاست کے بجائے عالمی سائبر جرائم کے مرکز کے طور پر مزید مضبوط ہوتا چلا جائے گا، جس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے