وزیراعلیٰ پنجاب، اسسٹنٹ کمشنر و پیرا فورس رائیونڈ کے نام

تحریر: ظفر اقبال ظفر
راستوں کے حقوق کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح احکامات موجود ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے، یعنی مسلمانوں کو راستوں میں رکاوٹیں ڈالنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ نماز، جو مسلمانوں کی سب سے محبوب عبادت ہے، راستے پر ادا کرنا جائز نہیں۔ جب راستے پر فرض عبادت ادا کرنا منع ہے تو وہاں روزی کمانا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟

وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ نے ایک طرف ریڑھی بازاروں کے قیام کے ذریعے جائز روزی کمانے والوں کے لیے باوقار مواقع فراہم کیے ہیں، تو دوسری جانب عوامی راستوں سے ناجائز تجاوزات اور ریڑھیوں کو ہٹانے کے لیے پیرا فورس کا قیام عمل میں لایا ہے، جو شرعی، اخلاقی اور قانونی طور پر سو فیصد درست فیصلہ ہے۔ میں بھی کسی غریب پاکستانی کے حلال رزق کا مخالف نہیں، مگر ضروری ہے کہ اس معاملے کو مریم نواز صاحبہ کے وژن کے تناظر میں سمجھا جائے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیرا فورس اور حکومت پنجاب غریب عوام پر ظلم کر رہی ہے، دراصل ان کے شعور کی اصلاح کی ضرورت ہے۔

حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق “الکاسب حبیب اللہ”، یعنی اپنے ہاتھ سے روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہے، مگر اللہ کا دوست وہی ہو سکتا ہے جو شرعی اور اخلاقی حدود میں رہ کر روزی کمائے۔ یہ بھی فرمانِ رسول ﷺ ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو، مگر سوال یہ ہے کہ کتنے لوگ ایسے ہیں جو ایمانداری سے محنت کرتے ہوئے پسینے میں شرابور ہوتے ہیں؟
عوامی گزرگاہوں پر ریڑھیاں لگا کر راستے بند کرنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو دکان کا کرایہ اور بجلی کے بل ادا نہیں کرتے، مگر مہنگے کرایے اور ٹیکس ادا کرنے والے دکانداروں سے سستا سامان بیچ کر ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ خراب پھل پر اسٹیکر لگا کر مہنگے داموں فروخت کرنا کون سی خدمت ہے؟ ہم انسانی ہمدردی کے نام پر اسلامی اور اخلاقی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کو آخر کیوں نظرانداز کرتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ ریڑھی بانوں کی اکثریت مہنگے موبائل استعمال کرتی ہے، بہتر خوراک کھاتی ہے، اچھے گھروں میں رہتی ہے اور اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھاتی ہے۔ صرف پچیس فیصد ایسے لوگ ہیں جو واقعی کمزور حالات کا شکار ہیں، جن کے لیے حکومت پنجاب پہلے ہی فلاحی منصوبے شروع کر چکی ہے۔ عوام کے ذہنوں میں یہ غلط تاثر موجود ہے کہ ریڑھی لگانے والا لازماً تنگ دست ہوتا ہے، حالانکہ ایک ریڑھی والا اکثر ایک دکاندار سے زیادہ منافع کماتا ہے۔ اسی منافع کی خاطر وہ دکان کی طرف جانے کے بجائے جان بوجھ کر عوامی راستوں پر قبضہ کرتا ہے۔ یہی ذہنیت بھیک کے پیشے میں بھی کارفرما ہے، جہاں نہ کرایہ دینا پڑتا ہے، نہ بجلی کا بل اور نہ سرمایہ لگانا پڑتا ہے۔

میری تحریر کا اصل مقصد عوامی راستوں کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات کی نشاندہی ہے۔ اسی ضمن میں ایک ذاتی اور اہلِ محلہ کی اجتماعی شکایت بھی متعلقہ حکام تک پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں۔ رائیونڈ تبلیغی مرکز کے بازار سے ناجائز تجاوزات اور ریڑھیوں کو ہٹانے میں ماضی اور حال میں تمام ادارے ناکام رہے ہیں۔ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں:
اول، سڑک سے منسلک دکان مالکان پیسے لے کر سڑک کرائے پر دے دیتے ہیں؛
دوم، کارروائی کے دوران پکڑے جانے والے ریڑھی والے رشوت دے کر چھوٹ جاتے ہیں اور دوبارہ سڑک پر قابض ہو جاتے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ سڑک سے رکاوٹیں ہٹانے کے نام پر شریف شہریوں کی رہائشی گلیاں بند کر دی جاتی ہیں۔ کیا یہ لوگ ٹیکس دینے والے پاکستانی نہیں؟
رائیونڈ تبلیغی مرکز گیٹ نمبر 9 کے بازار سے منسلک رہائشی گلیوں کے معزز اور مذہبی مکین برسوں سے اس اذیت کا شکار ہیں۔ جب سڑک پر کارروائی ہوتی ہے تو ریڑھی والے گلیوں میں پناہ لے لیتے ہیں، جس سے گلیاں مکمل بند ہو جاتی ہیں۔ نتیجتاً بوڑھے، بچے، مرد و خواتین اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ایمبولینس کا گزرنا بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔ مقامی افراد نے بارہا شرافت سے منت سماجت کی، مگر ریڑھی بان قوم پرستی کے منافقانہ اتحاد کے نام پر بدمعاشی کرتے ہوئے زبردستی قابض رہتے ہیں۔

اس صورتحال سے نجات کے لیے مقامی مکینوں نے مورخہ 22-10-2025 کو پیرا فورس آفس اور اسسٹنٹ کمشنر تحصیل رائیونڈ کے دفتر میں درخواست جمع کروائی، جس کا ڈائری نمبر 1185 ہے۔ تین ماہ گزرنے کے باوجود مستقل بنیادوں پر کوئی حل نہیں نکالا گیا، جس سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کے عوامی خدمت کے بیانیے پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی شکایت درج کروائی گئی (نمبر 1555754، مورخہ 26 جنوری 2026)، مگر اس پر بھی کوئی عملی کارروائی نہیں ہوئی۔

حقیقت یہ ہے کہ اشتہار بازی اور بیان بازی سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ عملی طور پر عوام کے مسائل آج بھی رشوت اور سفارش سے حل ہو رہے ہیں، اور جو اس سے محروم ہیں وہ مسلسل اذیت میں مبتلا ہیں۔ غفلت اور لاپروائی تنقید کو جنم دیتی ہے، جبکہ اعلیٰ ظرفی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔ پنجاب حکومت اور سرکاری اداروں کے افسران کی قابلیت پر یقین رکھتے ہوئے ایک بار پھر اپیل ہے کہ وہ پاکستانیت اور انسانیت کے جذبے کے تحت متاثرہ عوام کی دادرسی کریں اور سرخرو ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے