اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار حبیب خان) رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں جہاں ایک طرف برکتوں کا نزول ہو رہا ہے، وہیں اوچ شریف اور گردونواح میں بااثر دودھ فروشوں نے انسانی جانوں سے کھیلنے کا مکروہ دھندہ شروع کر رکھا ہے۔ شہر میں دودھ اور دہی کی طلب میں اضافے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے پیمانے پر کیمیکل اور پاؤڈر ملا مضر صحت دودھ فروخت کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق الشمس چوک، غوث اعظم چوک، علی پور روڈ، حسینی چوک اور ٹینکی چوک جیسے گنجان آباد علاقوں میں ملاوٹ مافیا رات کے اندھیرے میں گاڑیوں اور ڈرموں کے ذریعے کیمیکل زدہ دودھ شہر منتقل کرتا ہے۔ یہ گروہ نہ صرف من پسند قیمتیں وصول کر رہا ہے بلکہ خالص دودھ کے نام پر شہریوں کو سفید زہر پلانے میں مصروف ہے، جس پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بازاروں میں دستیاب کھلا دودھ اب صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ طبی ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ کیمیکل اور ناپاک اجزاء سے تیار کردہ یہ مصنوعی دودھ بچوں اور بزرگوں کے لیے انتہائی مہلک ہے، جو گردوں، جگر اور معدے کے سنگین امراض کا سبب بن رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق ملاوٹ سے پاک دودھ کا حصول اب تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
اہلِ علاقہ نے متعلقہ محکموں کی مبینہ خاموشی پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث ملاوٹ مافیا بے لگام ہو چکا ہے۔ شہریوں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی اور تحصیل انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر شہر کے داخلی راستوں اور دکانوں پر چھاپے مارے جائیں اور لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔
مقامی کمیونٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ رمضان کے اس مقدس مہینے میں عوام کو خالص اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر سخت قانونی کارروائی نہ کی گئی تو شہر میں بڑے پیمانے پر بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری غفلت برتنے والے اداروں پر ہوگی۔