معروف امریکی جریدے واشنگٹن ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ مئی کی پاک بھارت جنگ کے بعد پیدا ہونے والی نئی اسٹریٹجک صورتحال میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘اِنر سرکل’ کے ایک نمایاں اسٹار بن کر ابھرے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان قائم ہونے والے قریبی تعلق کو واشنگٹن کے حلقوں میں "برومانس” کے نام سے یاد کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکی جریدے نے فیلڈ مارشل کو ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور پراسرار شخصیت کی بنا پر "ڈسپلنڈ ڈارک ہارس” اور "ڈیلبریٹ میسٹری” جیسے القابات سے نوازا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں فیلڈ مارشل کے اعزاز میں دی گئی لنچ میٹنگ کو کسی بھی پاکستانی عسکری سربراہ کے لیے اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد مثال قرار دیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بدلتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
واشنگٹن ٹائمز کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا سینٹ کام (CENTCOM) ہیڈکوارٹرز میں ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا، جہاں انہوں نے امریکی عسکری قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اخبار کا دعویٰ ہے کہ ان اہم ملاقاتوں اور پاکستان کی مضبوط عسکری کارکردگی کے نتیجے میں پاکستان اب ٹرمپ کی "گرینڈ اسٹریٹیجی” کے مرکز کے قریب آ چکا ہے اور اسے 2026 کے آغاز تک امریکی پالیسیوں میں کلیدی اہمیت حاصل رہے گی۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 2025 میں جنوبی ایشیا کے توازن کو دوبارہ سے ترتیب دینے اور امریکی پالیسی کا رخ بدلنے میں پاکستان اور فیلڈ مارشل نے بنیادی کردار ادا کیا ہے، تاہم اس نئی پالیسی کی طویل مدتی پائیداری کا دارومدار اسلام آباد اور نئی دہلی کے مستقبل کے رویوں پر منحصر ہوگا۔