اسلام آباد (کیو این این ورلڈ /سپیشل رپورٹ) 26 فروری کا دن ایک بار پھر بھارت کے لیے تاریخی ذلت اور پاکستان کے لیے غیرت اور طاقت کا نشان بن گیا۔ یہ وہ دن ہے جب بھارتی سازشوں اور پراکسی جنگ کی حقیقت دنیا کے سامنے عریاں ہو گئی، اور پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ، 2019 میں بالاکوٹ پر بھارتی فضائی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے بعد، 2026 میں اسی دن بھارت نے افغان طالبان کو پراکسی بنا کر پاکستان کی سرحدوں پر حملے کروائے، مگر پاکستان کے آپریشن غضب للحق نے بھارتی خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔ یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ بھارتی مکاری کی مکمل ناکامی اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا زبردست مظاہرہ تھا۔

26 فروری 2019 کو بھارت نے پاکستان کے خلاف بلا اشتعال فضائی حملہ کیا، جس میں اس کے دو جیٹ طیارے تباہ ہوئے اور پائلٹ ابھینندن وارتھمن کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ بھارت کی فضائی برتری کے دعووں کی قلعی کھولنے والا دن تھا، جہاں پاکستان نے نہ صرف دفاع کیا بلکہ دشمن کو اس کی اوقات یاد دلا دی۔ اب 2026 میں، اسی تاریخی دن پر بھارت نے اپنی بوکھلاہٹ میں افغان طالبان کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی سرحدوں پر جارحیت کی۔ افغان فورسز نے چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں حملے کیے، جو دراصل بھارتی خفیہ ایجنسی را کی سازش تھی۔ پاکستان کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، بھارت افغان طالبان کو مالی اور ہتھیاروں کی امداد دے کر پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے، اور یہ پراکسی وار بھارتی شکست خوردگی کا نتیجہ ہے۔

پاکستان نے فوری اور طوفانی ردعمل دکھایا۔ آپریشن غضب للحق کے تحت پاک فضائیہ نے کابل، قندھار، ننگرہار اور پکتیا میں طالبان کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس آپریشن میں 133 افغان طالبان جنگجو ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جو پاکستان کی درست انٹیلی جنس اور جدید ہتھیاروں کی بدولت ممکن ہوا۔ دو بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز، دو کور ہیڈ کوارٹرز، تین بٹالین ہیڈ کوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو اور ایک لاجسٹک بیس مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے، جس سے طالبان کی جنگی صلاحیت کو شدید دھچکا لگا۔ اسی طرح 80 سے زائد ٹینک، آرٹلری گنز اور اے پی سیز کو نیست و نابود کیا گیا، جو بھارتی امداد سے حاصل کیے گئے تھے اور اب راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں۔

یہ آپریشن صرف دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ تھا، جو پاکستان کی "پہلے مارو” کی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 55 پاکستانی فوجی شہید کیے اور متعدد پوسٹیں قبضے میں لیں، مگر یہ جھوٹے پروپیگنڈے ہیں جو بھارتی میڈیا کی مدد سے پھیلائے جا رہے ہیں۔ حقیقت میں، پاکستان نے افغان حملوں کا بھرپور جواب دیا اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا، جبکہ افغان دعوے غیر مصدقہ اور بوکھلاہٹ کی پیداوار ہیں۔

بھارت کی یہ پراکسی جنگ اس کی داخلی کمزوریوں اور علاقائی تنہائی کا نتیجہ ہے۔ 10 مئی 2025 کو آپریشن سیندور کے جواب میں آپریشن ببنیانِ مرصوص سےدیا گیا، جس میں پاکستان نے بھارتی دہشت گردانہ منصوبوں کو ناکام بنایا۔ بھارت نے اس موقع پر ٹی ٹی پی کو استعمال کرنے کی کوشش کی مگر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دشمن کو ذلت آمیز شکست دی۔ بھارت کی افغان طالبان کے ساتھ ملی بھگت بھی واضح ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت افغان طالبان کو مالی مدد دے کر پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے، اور یہ "لو انٹینسٹی وار” بھارتی بوکھلاہٹ کا اظہار ہے۔ افغان ردعمل کمزور اور بوکھلاہٹ سے بھرا ہے، جہاں وہ پاکستان کے حملوں کا جواب دینے کی بجائے جھوٹے دعووں پر اتر آئے ہیں۔

پاکستانی قیادت نے واضح پیغام دیا ہے۔ وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا کہ افغانستان بھارت کی پراکسی ہے، اور پاکستان ہر فورم پر اس کی نشاندہی کرے گا۔ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اعلان کیا کہ پاک فوج ہر جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گی، اور دشمن پاکستان کی سرحدوں سے باہر نہیں رہے گا۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی آپریشن کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان امن کے نام پر کمزوری نہیں دکھائے گا، بلکہ ہر دشمن کو اس کے انجام تک پہنچائے گا۔

ہم برملا کہہ سکتے ہیں کہ 26 فروری اب بھارت کی رسوائی کا دن بن چکا ہے۔ پاکستان نے ہر بار جارحیت کا طاقتور جواب دیا، جس سے بھارتی پراکسیز عبرتناک سزا دی گئی۔ آپریشن سیندور کے جواب میں بینان مرصوم اور اب غضب للحق نے ثابت کر دیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ میں کوئی رعایت نہیں کرے گا۔ پاک فوج کی تربیت، جدید ہتھیار اور عوامی حمایت نے دشمن کو ہمیشہ کی طرح ذلیل کیا۔ بھارت کی یہ سازشیں اس کی علاقائی تنہائی کو مزید گہرا کریں گی، جبکہ پاکستان کی طاقت عالمی سطح پر تسلیم کی جا رہی ہے۔

نتیجتاً، بھارت کی یہ دوسری 26 فروری کی ہزیمت تاریخ میں درج ہو گئی۔ پاکستان نے نہ صرف دفاع کیا بلکہ دشمن کو سبق سکھایا کہ اس کی سرزمین پر آنکھ اٹھانے والا کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ عالمی برادری کو بھارتی مکاری کا نوٹس لینا چاہیے، ورنہ یہ آگ مزید پھیل سکتی ہے اور پاکستان غافل نہیں بلکہ تیار ہے، اور دشمن کی ہر چال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور پاک فوج کے ساتھ ساتھ پوری پاکستانی قوم دشمن کی ہر چال کو ناکام بنانے کے لیے بنیانِ مرصوص کی عملی صورت اختیار کر کے سینہ تان کر کھڑی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے