لاہور (کیو این این ورلڈ) لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف فتویٰ جاری کرنے سے متعلق دو اہم مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے کالعدم مذہبی جماعت کے رہنماؤں کو طویل قید اور جرمانے کی سزائیں سنا دی ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج شاہد سکندر نے دونوں مقدمات کا ٹرائل مکمل ہونے پر محفوظ فیصلہ سنایا، جس کے تحت جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو مجموعی طور پر کئی دہائیوں کی قید بھگتنا ہو گی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق کالعدم ٹی ایل پی کے رہنما مولانا طاہر سیفی کو سابق چیف جسٹس کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کے جرم میں 32 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے، ان کے خلاف تھانہ اے ڈویژن شیخوپورہ میں مقدمہ درج تھا۔
اسی نوعیت کے دوسرے مقدمے میں عدالت نے ملزم ریاض کو 36 سال قید اور ساڑھے چھ لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم دیا ہے، ملزم ریاض کے خلاف تھانہ چھانگا مانگا قصور میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ ملزم مولانا طاہر سیفی اور ملزم ریاض پر الزام تھا کہ انہوں نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کیں اور فتویٰ جاری کیا تھا، جس پر قانون نے حرکت میں آتے ہوئے کارروائی مکمل کی۔