مادری زبانیں فطرت کا خوبصورت عطیہ
تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاہر جلالوی
altafkhandahir@gmail.com

مادری زبانیں کسی بھی قوم کی شناخت، اس کے تہذیبی ورثے اور نفسیاتی نشوونما میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ 21 فروری "مادری زبانوں کے عالمی دن” کے حوالے سے معروف محقق اور کالم نگار ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی نے ایک مفصل اور فکر انگیز مقالہ تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے مادری زبانوں کی اہمیت، سرائیکی زبان کی تاریخی قدامت اور نوآبادیاتی نظام کے اثرات کا علمی احاطہ کیا ہے۔ موضوع کی وسعت اور اہمیت کے پیشِ نظر یہ مقالہ تین اقساط میں قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔ آج اس سلسلے کی دوسری قسط پیشِ خدمت ہے

سرائیکی زبان اور نوآبادیاتی اثرات

انسان میں اعلی ترین ذریعہ ابلاغ زبان ہے۔پاکستان میں سرائیکی زبان کو ملی وحدت کے تصور کو تصوف کی خوبصورت و خوشبودار زبان قرار دیتے ہوئے سابق ڈائریکٹر کالجز انگلش زبان کے استاد و مایہ ناز سرائیکی شاعر پروفیسر شمیم عارف قریشی نے کیا خوب کہا ” جہاں تک ملی وحدت یا ملی اکائی کی بات ہے تو مجھے کھل کر کہنا چاہیے کہ سرائیکی زبان اور سرائیکی ثقافت ہی واحد ایسی ملی اکائی ہے،جو بین الصوبائی حیثیت و حقیقت کی حامل ہے۔میرے نزدیک اس زبان کا پھیلاؤ پاکستان کی سلامتی و وحدت سے مربوط ہے۔اس کی مثال میں آپ کو تصوف کی دنیا سے دینا چاہتا ہوں۔بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے قصور اور شاہ حسین رحمتہ اللہ علیہ نے لاہور بیٹھ کر،روحل فقیر رحمتہ اللہ علیہ اور سچل سرمست رحمتہ اللہ علیہ نے سندھ میں رہتے ہوئے جبکہ پیر مہر علی شاہ گیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے مارگلہ کے دامن اور پیر شاہ محمد رحمتہ اللہ علیہ پوٹھوہار کے خطے سے جو شاعری کی ہے،انسان دوستی اور باہمی محبت و احترام آدمیت کا جو سرمدی نغمہ چھیڑا ہے، ذرا توجہ سے سنیں تو وہ سرائیکی ساز پر چھڑا سرائیکی نغمہ و ملی گیت ہے اور یہ کوئی معمولی اور نظر انداز کردینے والی بات نہیں۔یہ ایک ایسی تاریخی سچائی ہے جس کے ذریعے ہم آج بھی بہت سی باتوں کا تعین کرسکتے ہیں۔”

مادری زبان بہترین و آسان ترین کلیہ ہدایت وتربیت ہے۔بلاشبہ زبان کسی بھی انسان کی ذات اور شناخت کا اہم ترین جزو ہے اسی لیے اسے بنیادی انسانی حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے چھ ہزار سے 7ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔پاکستانی ماہرینِ لسانیات کے مطابق ملک بھر میں مختلف لہجوں کے فرق سے 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔

سال2010ء کی ہایئر ایجوکیشن کمیشن رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی زبان سرائیکی کو مانا گیا ہے۔لفظ سرائیکی سرسوتی سے نکلا ہے۔علم آثارقدیمہ ریسرچ مطابق موجودہ روہی چولستان کا ایک گمشدہ شہر گنویری والا دریائے ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کا تقریبا آٹھ ہزار سال قدیم تاریخی شہر ہے۔سرائیکی زبان کی ادبی روایت کئی صدیوں پر محیط ہے۔ حضرت بہاالدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ملتانی رحمۃاللہ علیہ کی سرائیکی شاعری دراصل کلاسک سرائیکی مادری زبان کی شناخت و عظمت کی گواہی ہے۔سرائیکی مہان کلاسک شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ سرائیکی زبان کا لازوال عروج ہے۔”میں تے یار فرید منیسوں رل مل شہر بھنبھور” سرائیکی خطے کے قدیم ہزار سالہ ادبی و ثقافتی دستاویز ہے۔لیکن صد افسوس کہ آج تک اس زبان کو وہ مقام و مرتبہ حاصل نہیں ہو سکا ۔جو اس کا اولین حق تھا۔یہ ادبی اعتبار سے کسی بھی دوسری زبان سے پیچھے نہیں ہے۔اس میں ہمارے مذہب اسلام ،دین،فقہ،علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کا بیش قیمت سرمایہ موجود ہے۔

پاکستان کے ہر صوبے اور ہرضلع میں سرائیکی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔انڈیا میں کثیر تعداد میں سرائیکی زبان بولنے افراد رہتے ہیں۔سرائیکی زبان اب عالمی شہرت یافتہ زبان کا اعزاز حاصل کرچکی ہے۔سرائیکی وسیب میں ہر حملہ آور نے اس کے زرخیز خطے پر قبضہ کرنے کے لیے مقامی لوگوں کی زبان اور ثقافت پر شدید حملہ کیا۔مگر دھرتی واسیوں نے مکمل اعتماد و یقین سے ان کے عزائم خاک میں ملا دئیے۔سرائیکی علاقہ محبت و احترام آدمیت اور تصوف سے مالا مال ہے۔سرائیکی آکھان جو "مٹھاس تے وفا دا ڈوجھا ناں سرائیکی ہے”۔سندھ میں جس کو سرائیکی نہیں آتی اس کو ڈھگو کہا جاتا ہے۔

انگریز نے فاتحانِ عالم کی طرح ہمت اور بہادری کے ساتھ برصغیر کو فتح نہیں کیا۔بلکہ تاجروں کا بھیس بدل کر روٹی کی بھیک مانگتے ہوئے بھارت میں آیا اور مغلیہ حکمرانوں کے سامنے دامن پھیلا کر تجارتی سہولیات حاصل کیں۔لیکن موقع ملتے ہی لٹیروں اور ڈاکوؤں کی طرح اپنے ہی محسنوں کے گھر پرقبضہ کر لیا۔انگریزنے قدم جمانے کے بعد مقامی زبانوں کو نظر انداز کر دیا۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی قوم کو مٹانا ہو تو اس کی زبان مٹا دو‘‘ تو قوم کی روایات، تہذیب، ثقافت، تاریخ اور اس کی قومیت غرض سب کچھ مٹ جائے گا۔

مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اس کے ساتھ تہذیب و تمدن اور ثقافت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔اسی لئے دنیا بھر میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیے جانے کا انتظام ہوتا ہے۔کیونکہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اس کے اور نظام تعلیم کے درمیان ایک آسان اور زود اثر تفہیم کا تعلق پیدا کر دیتے ہیں۔لیکن انگریزوں نے سرائیکی وسیب میں رائج نظامِ تعلیم کو ختم کرتے ہوئے پرائمری تک تعلیم کے لیے مقامی زبانوں سرائیکی،بلوچی،پوٹھوہاری ،پنجابی،سندھی،پشتو، بلتی،گلگتی وغیرہ کی جگہ اردو زبان کو لازمی قرار دیا۔جبکہ فارسی کی جگہ انگریزی سرکاری زبان بنا دی گئی۔ انگریزی بولنے اور پڑھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ کہلانے لگے۔جب کہ مقامی مادری زبانوں سے محبت کرنے والے مہذب اہل علم جاہل،جانگلی،ان پڑھ اور گنوار کہلانے لگے۔

جاری ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے