سکھر (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار مشتاق علی لغاری) سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اعجاز چنہ کے حکم پر کمپنی افسران اور فیلڈ ملازمین نے اپنے فرائض چھوڑ کر سکھر نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس سے ادارے کے دفتری امور اور فیلڈ آپریشنز کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیف انجینئر آپریشن عبدالغنی شیخ، ایس ای صابر بگٹی اور مظفر کھاوڑ سمیت دیگر اعلیٰ افسران اور یونین رہنماؤں نے سی ای او کے خلاف کرپشن کی خبریں منظرِ عام پر آنے پر صحافیوں کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران ملازمین نے کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ انہیں سی ای او کی جانب سے باقاعدہ پیغام دے کر ڈیوٹی چھوڑ کر پریس کلب پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی، تاکہ صحافیوں پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
مظاہرے کے دوران صحافیوں کے تیکھے سوالات نے سیپکو انتظامیہ کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا، جس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ سی ای او سیپکو نے صحافی ملوک بلوچ کے خلاف مختلف اضلاع میں انتقامی بنیادوں پر متعدد مقدمات درج کروائے تھے، جنہیں عدالت نے جھوٹا قرار دے کر خارج کر دیا ہے۔ سیپکو افسران نے مطالبہ کیا کہ سی ای او کے خلاف خبریں بند کی جائیں، تاہم وہ اس سوال کا جواب دینے میں ناکام رہے کہ عوامی ٹیکسوں پر چلنے والے ادارے کے ملازمین کو نجی دفاع کے لیے سرکاری اوقات میں سڑکوں پر کیوں لایا گیا۔ اس صورتحال نے سیپکو انتظامیہ کی شفافیت پر مزید سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں اور ملازمین کے جبری احتجاج کو ادارے کے وسائل کا ضیاع قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سکھر نیشنل پریس کلب کے عہدیداران نے سی ای او سیپکو کو کرپشن کے الزامات پر لائیو مناظرے کا کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں ناکام رہے اور یہ ثابت نہ کر سکے کہ مقدمات جھوٹے نہیں تھے، تو صحافی صحافت چھوڑنے کو تیار ہیں۔ صحافیوں نے وفاقی حکومت، وزارتِ توانائی اور پاور ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ سیپکو میں مبینہ کرپشن، سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور صحافیوں کو جھوٹے مقدمات کے ذریعے ہراساں کرنے کے معاملے کی اعلیٰ سطح پر شفاف انکوائری کرائی جائے۔ پریس کلب کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ کسی بھی ادارے کی بدعنوانی کو بے نقاب کرنا ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے اور وہ ایسے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہوئے بغیر سچ کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔