اوچ شریف: (کیو این این ورلڈ/نامہ نگارحبیب خان) مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے عوام پر حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں ایک بار پھر اضافے اور نئے سرچارجز عائد کرنے کی تیاریوں نے شہریوں کو اشتعال دلا دیا ہے۔ اوچ شریف کے شہری حلقوں، تاجروں اور مزدور تنظیموں نے اس مجوزہ اضافے کو غریب دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے، فیول ایڈجسٹمنٹ اور بلوں میں نئے ٹیکس شامل کرنے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کم آمدن والے طبقے، دیہاڑی دار مزدوروں اور سفید پوش افراد کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی بجلی کے بھاری بل ادا کرنے کی سکت کھو چکے ہیں اور اب مزید بوجھ ڈالنا ان کی زندگیوں کو اجیرن بنانے کے مترادف ہے۔
اوچ شریف کی سماجی شخصیات اور شہریوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں دو وقت کی روٹی کا حصول پہلے ہی ایک چیلنج بن چکا ہے، ایسے میں بجلی کے بل عوام کے لیے عذاب بن گئے ہیں۔ صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ کئی گھروں کے بجلی کنکشن بلوں کی عدم ادائیگی پر کٹ رہے ہیں جبکہ چھوٹے کاروبار بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت ریلیف دینے کے بجائے عوام کو مزید معاشی مشکلات کی دلدل میں دھکیل رہی ہے۔
تاجر برادری اور مزدور رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا، جس سے اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے مزید دور ہو جائیں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ فوری روکا جائے اور اضافی ٹیکسز ختم کیے جائیں، بصورتِ دیگر عوام سڑکوں پر نکلنے اور احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔