ڈیورنڈ لائن: حقائق، مغالطے اور افغان دشمنی
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی

تاریخ کے اوراق میں کچھ لکیریں ایسی کھینچی جاتی ہیں جو محض سرحدیں نہیں ہوتیں بلکہ ریاستوں کے بقا اور استحکام کا سنگِ میل بن جاتی ہیں۔ ڈیورنڈ لائن، جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2,640 کلومیٹر طویل بین الاقوامی حد بندی ہے، برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے کابل کے حکمرانوں نے اپنی داخلی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے ہمیشہ ایک سیاسی اوزار کے طور پر استعمال کیا۔ 1893 میں طے پانے والے اس معاہدے کی قانونی حیثیت اتنی ہی مسلمہ ہے جتنی دنیا کی دیگر بین الاقوامی سرحدوں کی، مگر افغانستان کی جانب سے اس کے گرد بُنا گیا پروپیگنڈہ محض جذباتیت اور تاریخی حقائق سے انحراف پر مبنی ہے۔ ڈیورنڈ لائن کا آغاز برطانوی ہند کے سیکریٹری خارجہ سر مورٹیمر ڈیورنڈ اور امیرِ افغانستان عبدالرحمن خان کے درمیان ایک باقاعدہ معاہدے سے ہوا تھا، جس پر افغان امیر نے کسی دباؤ کے بغیر، اپنی مکمل خود مختاری کے ساتھ دستخط کیے تھے۔ اس وقت امیرِ افغانستان نے نہ صرف اس لائن کو تسلیم کیا بلکہ اس کے عوض برطانوی ہند سے مالی فوائد اور اسلحے کی فراہمی کی مراعات بھی حاصل کیں۔ بعد کے برسوں میں 1905، 1919 کے معاہدہ راولپنڈی اور 1921 کے معاہدہ کابل کے ذریعے یکے بعد دیگرے آنے والے افغان حکمرانوں نے اس سرحد کی بارہا تصدیق کی، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ افغان ریاست کے نزدیک یہ سرحد کبھی بھی "عارضی” نہیں رہی۔

عالمی قوانین کی روشنی میں دیکھا جائے تو پاکستان کا مؤقف چٹان کی طرح مضبوط ہے۔ بین الاقوامی قانون کا ایک قدیم اور مسلمہ اصول "Uti Possidetis Juris” ہے، جو واضح کرتا ہے کہ نوآبادیاتی دور کی سرحدیں نئی ریاستوں کو وراثت میں منتقل ہوتی ہیں۔ جب 1947 میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو وہ برطانوی ہند کا قانونی وارث (Successor State) تھا، لہٰذا تمام بین الاقوامی معاہدے اور سرحدیں خود بخود پاکستان کو منتقل ہوگئیں۔ ویانا کنونشن آن دی لا آف ٹریٹیز کا آرٹیکل 62 بھی اسی حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ سرحدی معاہدے ریاستوں کی تبدیلی سے ختم نہیں ہوتے۔ افغان حکمرانوں کا یہ دعویٰ کہ یہ معاہدہ محض سو سال کے لیے تھا، قانونی اور تاریخی طور پر ایک صریح جھوٹ ہے، کیونکہ اصل دستاویز میں ایسی کسی شق کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ افغانستان کی یہ ضد کہ یہ لکیر پشتون قبائل کو تقسیم کرتی ہے، ایک کمزور منطق ہے کیونکہ دنیا بھر میں سینکڑوں سرحدیں مختلف نسلوں اور قبائل کے درمیان سے گزرتی ہیں، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ بین الاقوامی سرحد کو مٹا دیا جائے۔

اگر ہم اس صورتحال کا موازنہ ترکیہ کے معاہدہ لوزان (1923) سے کریں تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے پر جب جدید ترکیہ کا نقشہ مرتب ہوا تو اسے اپنے بہت سے تاریخی اور تزویراتی علاقوں سے دستبردار ہونا پڑا، لیکن کمال اتاترک کی قیادت میں ترک ریاست نے جذباتی نعروں کے بجائے عالمی قوانین کو تسلیم کیا اور اپنی سرحدوں کا احترام کیا۔ ترکیہ نے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ معاہدے کے سو سال مکمل ہونے پر اسے پرانے عثمانی علاقے واپس ملنے چاہئیں، کیونکہ وہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر جانتے ہیں کہ سرحدوں میں تبدیلی کی کوشش عالمی انارکی اور جنگ کو دعوت دینا ہے۔ اس کے برعکس، افغانستان نے پاکستان کے قیام کے پہلے دن سے ہی ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا۔ 1947 میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف واحد ووٹ افغانستان کا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی دشمنی کسی قانونی نکتے پر نہیں بلکہ پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرنے پر مبنی تھی۔ کابل نے "پشتونستان” کا شوشہ چھوڑ کر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی، قبائلیوں کو ریاست کے خلاف اکسایا اور مسلح جتھوں کی سرپرستی کی تاکہ پاکستان کو مغربی سرحد سے کبھی سکون نصیب نہ ہو۔

افغانستان کی جانب سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں محض بیانات تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کا ایک سیاہ عسکری پس منظر بھی ہے۔ 1949 میں چمن کے مقام پر افغان فوج کی جارحیت ہو یا 1960 اور 1961 میں باجوڑ اور خیبر ایجنسی پر مسلح حملے، کابل نے ہمیشہ بین الاقوامی سرحدوں کی پامالی کی۔ 1970 کی دہائی میں جب پاکستان اپنے استحکام کی جنگ لڑ رہا تھا، افغانستان نے بلوچ علیحدگی پسندوں کو پناہ گاہیں فراہم کیں اور "الذوالفقار” جیسے دہشت گرد گروہوں کے لیے تربیتی کیمپ قائم کیے۔ نائن الیون کے بعد جب پاکستان عالمی دہشت گردی کے خلاف صفِ اول کا سپاہی بنا، تو افغان سرزمین کو ایک بار پھر پاکستان کے خلاف "لانچنگ پیڈ” کے طور پر استعمال کیا گیا۔ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے دہشت گردوں کو افغان انٹیلی جنس (NDS) کی چھتری تلے محفوظ ٹھکانے فراہم کیے گئے، جنہوں نے اے پی ایس پشاور جیسے المناک واقعات کے ذریعے پاکستانی قوم کے لہو سے ہولی کھیلی۔ آج بھی جب پاکستان اپنی سرحد پر باڑ لگا کر اسے محفوظ بنانا چاہتا ہے، تو افغان حکمران اسے اپنی خود ساختہ دشمنی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے مزاحمت کرتے ہیں۔

پاکستان نے کئی دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، ان کے ساتھ اپنا رزق بانٹا اور افغانستان کی تعمیرِ نو میں اربوں روپے خرچ کیے، مگر جواب میں ہمیں ہمیشہ "احسان فراموشی” کا سامنا کرنا پڑا۔ افغانستان کی یہ پالیسی دراصل ان کی اپنی داخلی کمزوریوں کا شاخسانہ ہے؛ جب بھی کابل میں کوئی حکومت اپنی عوام کو خوشحالی دینے میں ناکام ہوتی ہے، وہ ڈیورنڈ لائن کا راگ الاپ کر قوم پرستی کا جن بوتل سے باہر نکال لیتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور اپنی سرحدوں کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ افغانستان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ڈیورنڈ لائن کوئی متنازع علاقہ نہیں بلکہ پاکستان کی ایک اٹل اور ناقابلِ تغیر جغرافیائی حقیقت ہے۔ عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کے نقشوں میں یہ لائن ایک مسلمہ بین الاقوامی سرحد ہے اور اسے چیلنج کرنا عالمی قوانین سے کھلی بغاوت ہے۔

موجودہ منظرنامے میں افغانستان کی پاکستان دشمنی اب محض بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ حالیہ خودکش حملوں اور دہشت گردی کی لہر نے کابل کا بدنما چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ پاکستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے تمام ناقابلِ تردید ثبوت منظرِ عام پر آچکے ہیں، جو براہِ راست افغان سرزمین کے استعمال کی تصدیق کرتے ہیں۔ رواں ماہ ہونے والے بزدلانہ حملے اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ ‘فتنہ الخوارج’ کے دہشت گردوں کو نہ صرف افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ وہ بھارتی پراکسی کے طور پر افغان سرپرستی میں تربیتی کیمپوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ افغانستان نے ہمیشہ سے ایک ‘سانپ’ کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کی پیٹھ پیچھے ڈسا ہے، جہاں سے مسلح جتھے سرحد پار کر کے پاکستانیوں کا خون بہاتے ہیں۔ ان دہشت گردوں کی تربیت، سہولت کاری اور محفوظ ٹھکانوں کے لیے افغان سرزمین کا مہیا کیا جانا اس تلخ حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ افغانستان تاریخی طور پر پاکستان کا ازلی دشمن رہا ہے اور آج بھی اپنی تمام تر توانائیاں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے صرف کر رہا ہے۔

قصہ مختصر یہ ہے کہ پاکستان کے صبر اور مروت کو اس کی کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے۔ ریاستِ پاکستان نے ہمیشہ ہمسایوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصول پر عمل کیا ہے، لیکن جب بات ملکی سالمیت اور ڈیورنڈ لائن کے تقدس کی ہو تو پاکستان کا مؤقف دو ٹوک، آہنی اور غیر لچکدار ہے۔ افغانستان کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہ کرنا اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کرنا ایک ایسی آگ ہے جو خود کابل کے ایوانوں کو بھی راکھ کر سکتی ہے۔ پاکستان کی غیور مسلح افواج اور بیدار مغز عوام اس سرحد کے ایک ایک انچ کی حفاظت کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان اپنی صدیوں پرانی ہٹ دھرمی اور دوغلی پالیسی ترک کرے، نقشوں پر کھینچی گئی اس قانونی حقیقت کو تسلیم کرے اور ایک ذمہ دار ہمسائے کا ثبوت دے۔ کابل یاد رکھے کہ پاکستان کی سرحدیں کوئی ‘موم کی ناک’ نہیں جنہیں افغان پروپیگنڈے یا بھارتی ایما پر موڑا جا سکے، بلکہ یہ پاکستان کے وقار، بقا اور خود مختاری کی وہ لکیر ہے جسے پار کرنے کا خواب دیکھنے والوں کو ہمیشہ عبرت ناک انجام اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان کا مستقبل ان شاء اللہ تابناک ہے اور اس کی سرحدیں رہتی دنیا تک ناقابلِ تسخیر رہیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے