اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) ماہر قومی سلامتی امور ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں، اور جو کام امریکا اور اس کے اتحادی افغانستان میں ادھورا چھوڑ گئے، اسے اب پاکستان کو مکمل کرنا ہوگا۔
نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر قمر چیمہ کا کہنا تھا کہ آج کا افغانستان اتنا ہی خطرناک ہے جتنا وہ 2002 میں تھا۔ ان کے مطابق افغان طالبان آج بھی القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے گروہوں کی حمایت کر رہے ہیں اور القاعدہ کو پناہ دیے ہوئے ہیں، جو خطے کے امن کے لیے تشویشناک امر ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں نے اپنی کارروائیوں کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ہے، جس کے باعث پاکستان کو مسلسل سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ صرف پاکستان کا مؤقف نہیں بلکہ یہ عالمی برادری کی بھی مشترکہ آواز ہے۔ ایران، تاجکستان، روس اور چین سمیت دیگر علاقائی ممالک بھی افغانستان کی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر قمر چیمہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور مستقل اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کے بقول امریکا اور دیگر ممالک نے افغانستان میں جو مشن ادھورا چھوڑا، اس کے اثرات اب پورا خطہ بھگت رہا ہے، لہٰذا پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو یہ جنگ لڑنی پڑے گی اور افغانستان میں موجود آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں، کیونکہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔