ڈیرہ غازی خان: (کیو این این ورلڈ) سخی سرور روڈ پر موٹر سائیکل ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں کی اندھا دھند فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد شہریوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے اور انہوں نے ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سمیت دو ڈی ایس پیز کو فوری عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق تھانہ سخی سرور کی حدود میں ڈاکوؤں نے واردات کی کوشش کی تو شہریوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ڈاکو کو قابو کر لیا۔ عینی شاہدین کا الزام ہے کہ پولیس کو فوری اطلاع دی گئی مگر وہ بروقت نہ پہنچی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکوؤں کے دیگر مسلح ساتھی واپس آئے اور اپنے ساتھی کو چھڑانے کے لیے شہریوں پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں۔ریسکیو 1122 کے مطابق فائرنگ کی زد میں آ کر ایک شہری موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ 4 زخمیوں کو علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،دنیا کی رپورٹ کے مطابق دو افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے ،جبکہ تین زخمی ہیں
واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، تاہم مقامی افراد نے پولیس کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی تاخیر قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنی۔ شہریوں نے ڈی پی او ڈیرہ غازی خان صادق بلوچ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ضلع کی تاریخ کا ناکام ترین افسر قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈی پی او سیاسی اثر و رسوخ کے تحت کام کر رہے ہیں اور تھانوں میں میرٹ پر تعیناتیاں کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔
عوامی حلقوں، سماجی رہنماؤں اور مظاہرین نے حکومتِ پنجاب اور اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ڈی پی او اور متعلقہ ڈی ایس پیز کو فوری تبدیل کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ضلع میں مؤثر پولیسنگ کو یقینی نہ بنایا گیا اور جاں بحق افراد کے لواحقین کو انصاف نہ ملا تو ڈیرہ غازیخان میں پولیس کے خلاف ایک احتجاجی تحریک جنم لے سکتی ہے