ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ/ نیوز رپورٹر شاہد خان) ڈیرہ غازی خان شہر اور گردونواح میں ڈکیتی و چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں، جہاں شہری مسلح ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہیں وہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شہر میں "صرف پولیس ہی محفوظ” رہ گئی ہے۔ سخی سرور، دراہمہ شاہ، صدر دین اور وڈور کے علاقوں میں حالیہ مسلح ڈکیتیوں نے شہریوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں اور تاجر برادری سمیت عام شہری شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق مسلح ملزمان سرِ عام دلیری کے ساتھ وارداتیں کر کے باآسانی فرار ہو جاتے ہیں، جبکہ پولیس کی جانب سے مؤثر گشت اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ٹھوس کارروائی محض کاغذوں تک محدود دکھائی دیتی ہے۔
شہریوں نے پولیس حکام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھانوں کی حدود میں جرائم کا گراف خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے لیکن پولیس انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس افسران کی تمام تر توجہ پروٹوکول اور دفاتر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جبکہ گلی محلوں میں عوام کا جان و مال غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ تاجروں اور شہریوں نے صادق علی ڈوگر بلوچ اور ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر نیند سے بیدار ہوں، خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں اور ان علاقوں میں پولیس گشت کو یقینی بنائیں جہاں ڈاکوؤں نے راج قائم کر رکھا ہے۔
عوامی سماجی تنظیموں اور شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن نہ کیا گیا اور عوام کو تحفظ فراہم نہ ہوا تو وہ آئی جی پنجاب کے دفتر کے سامنے احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ محض دعوؤں کے بجائے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرے تاکہ شہر میں امن و امان کی بحالی ممکن ہو سکے اور شہریوں کا پولیس پر کھویا ہوا اعتماد بحال ہو سکے۔ اس وقت پورا شہر خوف کے سائے میں ہے اور عوام ایک ایسی پولیس کے منتظر ہیں جو ڈاکوؤں کے بجائے شہریوں کی محافظ ثابت ہو۔