ڈیرہ غازی خان: 137 ملازمین کی برطرفی پر کمشنر آفس کے باہر احتجاجی دھرنا

ڈیرہ غازی خان ( کیو این این ورلڈ/ نیوز رپورٹر شاہد خان ) ڈیرہ غازی خان میں محکمہ ہیلتھ پاپولیشن کے سینکڑوں ملازمین کو 11 سال کی طویل خدمات کے بعد اچانک ملازمتوں سے فارغ کیے جانے کے خلاف شدید احتجاجی لہر دوڑ گئی ہے۔ متاثرہ ملازمین نے ضلعی انتظامیہ کے خلاف دہائی دیتے ہوئے کمشنر آفس کے باہر دھرنا دے دیا اور حکومت پنجاب کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

ملازمین کا موقف ہے کہ وہ گزشتہ گیارہ برس سے زائد عرصے تک اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ فرائض انجام دیتے رہے، مگر اب بغیر کسی پیشگی نوٹس یا واضح وجہ کے انہیں برطرف کر دیا گیا ہے۔ مظاہرین کے مطابق صرف ڈیرہ غازی خان میں 137 ملازمین متاثر ہوئے ہیں جبکہ پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 2740 خاندانوں کا معاشی قتل کرتے ہوئے انہیں بے روزگار کر دیا گیا ہے، جو کہ سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔

احتجاج میں شامل ملازمین نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ اتنے طویل عرصے کی ملازمت کے بعد اس طرح اچانک فارغ کیے جانے سے ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو چکے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس "معاشی قتل” کا فوری نوٹس لیا جائے اور برطرف ملازمین کو فی الفور بحال کر کے ان کا مستقبل محفوظ بنایا جائے۔

دوسری جانب اس حساس معاملے پر تاحال ضلعی انتظامیہ یا محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کی جانب سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آ سکا، جس کے باعث برطرف ملازمین میں بے چینی اور غم و غصہ مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ان کی بحالی کے احکامات جاری نہیں ہوتے، ان کا احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے