ڈیرہ غازی خان ( کیو این این ورلڈ) ضلع ڈیرہ غازی خان میں محکمہ خوراک کے گندم ذخائر میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر خردبرد کا انکشاف ہوا ہے، جسے مقامی سطح پر ایک "میگا کرپشن اسکینڈل” قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر آفس کی باضابطہ انکوائری رپورٹ کے مطابق، ضلع کے تین اہم مراکز سے ہزاروں میٹرک ٹن سرکاری گندم غائب پائی گئی ہے، جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا براہِ راست مالی نقصان پہنچا ہے۔
موصولہ دستاویزات کے مطابق، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر آفس نے لیٹر نمبر DFC-DGK-2026/710 کے ذریعے ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ ڈی جی خان ریجن کو ایک تفصیلی رپورٹ ارسال کی ہے، جس میں گندم کے ذخائر کی جانچ پڑتال کے دوران سامنے آنے والی سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ڈپٹی کمشنر کی ہدایات پر تشکیل دی گئی سپروائزری ٹیموں کی فزیکل ویری فکیشن اور ریکارڈ کے تقابلی جائزے کے بعد تیار کی گئی ہے۔
انکوائری کے دوران پی آر سی (PRC) ڈی جی خان میں تعینات سنٹر انچارج مسٹر بنیامین (AFC) کے زیر نگرانی گندم کے ذخائر میں 346.330 میٹرک ٹن گندم کی کمی سامنے آئی، جس کی مالیت 5 کروڑ 24 لاکھ 11 ہزار 410 روپے بنتی ہے۔ اسی طرح گندم خریداری مرکز شاہ صدر دین میں سنٹر انچارج مسٹر ثاقب علی (FGS) اور غلام مرتضیٰ (FGI) کے زیر انتظام 880.700 میٹرک ٹن گندم کی مبینہ خردبرد رپورٹ ہوئی ہے، جس کی مالیت 13 کروڑ 62 لاکھ 22 ہزار 34 روپے بتائی گئی ہے۔
مزید انکشاف ہوا کہ خریداری مرکز شادن لنڈ میں بھی، جہاں سنٹر انچارج غلام مرتضیٰ (FGI) تعینات تھے، 852.801 میٹرک ٹن گندم غائب پائی گئی جس کی مالیت 13 کروڑ 19 لاکھ 6 ہزار 764 روپے بنتی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ مالی تخمینہ ڈائریکٹوریٹ جنرل فوڈ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ ریکوری ریٹس کے مطابق لگایا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق سنٹر انچارجز سرکاری گندم کے بنیادی نگہبان ہوتے ہیں، تاہم سامنے آنے والی یہ کمی سنگین غفلت اور بدانتظامی کی عکاس ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکشافات سامنے آنے کے بعد متعلقہ فوڈ سنٹرز کے انچارجز مبینہ طور پر روپوش ہو گئے ہیں، جس سے معاملہ مزید مشکوک ہو گیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مظفر گڑھ اور راجن پور کے اضلاع میں بھی محکمہ خوراک کے مراکز پر کروڑوں روپے مالیت کی گندم کی مبینہ خردبرد کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم ان معاملات کو تاحال منظر عام پر نہیں لایا گیا۔
دوسری جانب شہریوں اور مختلف سماجی و سیاسی حلقوں، جن میں بشیر احمد، عبدالکریم، غلام مصطفی اور محمد حنیف شامل ہیں، نے شدید ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس میگا اسکینڈل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور پورے ڈویژن کے تمام گندم مراکز کا آڈٹ کیا جائے تاکہ اصل ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جا سکے۔
