ڈی جی خان (کیو این این ورلڈ) بھتہ نہ ملنے پر پٹرول پمپ پر فائرنگ، صدر سرکل میں ڈاکو راج، تھانہ دراہمہ کا ‘لاڈلہ’ ایس ایچ او سب پر بھاری
تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے تھانہ دراہمہ سمیت صدر سرکل کے وسیع علاقے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے، جہاں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں سے شروع ہونے والا سلسلہ اب مزاحمت پر قتل، منظم بھتہ خوری اور سرِعام فائرنگ جیسے سنگین جرائم تک جا پہنچا ہے۔ پولیس کی مبینہ نااہلی اور سفارشی بنیادوں پر تعینات ایس ایچ اوز کی ناکامی کے باعث جرائم پیشہ عناصر اس قدر بے خوف ہو چکے ہیں کہ اب مصروف شاہراہوں پر بھی شہریوں کا جان و مال محفوظ نہیں رہا۔ تازہ ترین اور سنسنی خیز واقعہ گزشتہ رات تھانہ دراہمہ کی حدود میں پاکستان چوک (جہاز چوک) ملتان روڈ پر واقع گورمانی پٹرول پمپ پر پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ پٹرول پمپ کے مالک خادم حسین گورمانی کو اس سے قبل بھی بھتہ خوری کے لیے ہراساں کیا گیا تھا اور ان کے ماڈل ٹاؤن والے گھر پر فائرنگ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ پٹرول پمپ کے مالک خادم حسین گورمانی کا کہنا ہے کہ "ریاض رتہ” نامی ڈکیت نے انہیں بھتہ نہ دینے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پٹرول پمپ مالک نے اس سے قبل بیرون ملک بیٹھے عناصر کو مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے بطور بھتہ ادا کیے تھے، مگر حالیہ فائرنگ نے پولیس کی کارکردگی اور بھتہ خوروں کے دوبارہ متحرک ہونے پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک روز قبل بھی تھانہ دراہمہ کے علاقے ٹھہڑی اور میرو مائنر پر زنگلانی ہاؤس کے قریب دوست کی شادی سے واپس آنے والے تقریباً ایک درجن افراد کو 5 مسلح ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر یرغمال بنا لیا۔ ڈاکوؤں نے متاثرین سے تین عدد نئے ہنڈا 125 موٹر سائیکل (ماڈل 2026)، نقدی اور درجنوں قیمتی موبائل فون لوٹ لیے، یہاں تک کہ بے خوف ڈاکوؤں نے متاثرین کی جیکٹس تک اتار لیں اور باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اس مخصوص علاقے میں 5 سے زائد موٹر سائیکلیں چھینی جا چکی ہیں، لیکن پولیس تاحال کسی ایک ملزم کو بھی گرفتار کرنے یا لوٹا گیا سامان برآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ضلع کے دیگر حصوں میں بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں۔ تھانہ گدائی کی حدود میں پولیس چوکی لوہار والا سے محض 100 میٹر کے فاصلے پر مسلح ڈاکوؤں نے ایک شہری سے موٹر سائیکل چھین لی، جبکہ تھانہ چوٹی کی حدود میں مزاحمت کرنے پر بلال احمد اور عبدالرزاق کھوسہ کو فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا گیا۔ اسی طرح قصبہ سمینہ کے علاقے پکی ہٹی میں بھی شہری محمد آمین بورانہ ڈاکوؤں کی فائرنگ کا نشانہ بنے اور شدید زخمی حالت میں ٹراما سینٹر منتقل کیے گئے۔ عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈی پی او ڈیرہ غازی خان کو شدید انتظامی ناکامی کا سامنا ہے اور سفارشی بنیادوں پر تعینات ایس ایچ اوز جرائم روکنے کے بجائے محض فوٹو سیشن اور کاغذی کارروائیوں تک محدود ہیں۔ شہریوں نے آئی جی پنجاب اور آر پی او ڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تھانوں کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کیا جائے، سفارشی افسران کو ہٹایا جائے اور ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑی گئی عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے