اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسمارٹ فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی زیر صدارت اجلاس میں ٹیکس تنازعات کے حل کے متبادل طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔
سید نوید قمر نے کہا کہ ایف بی آر گاڑیوں کے بعد موبائل فونز پر بھی غیر ضروری ٹیکس لگا رہی ہے، جبکہ اسمارٹ فون اب لگژری نہیں بلکہ بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا حوالہ ہر معاملے میں جائز نہیں۔
رکن قومی اسمبلی علی قاسم گیلانی نے موبائل فونز کی ایف بی آر ویلیو ایشن کو زیادہ قرار دیا۔ ٹیکس حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مہنگے فونز صرف امیر طبقہ استعمال کرتا ہے اور ٹیکس قیمت کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ پاکستان میں صرف 6 فیصد مہنگے موبائل فون درآمد کیے جاتے ہیں، جس پر ٹیکس کا زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔