واشنگٹن (ویب ڈیسک): نائیجیریا میں مسیحیوں کا قتل عام، صدر ٹرمپ کے حکم پر داعش کے خلاف مہلک امریکی فضائی حملہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمال مغربی نائیجیریا میں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف ایک طاقتور اور مہلک فوجی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ جنگ نے انتہائی درست اور کامیاب حملے کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ داعش اس علاقے میں مسیحی برادری کو جس بے رحمی کے ساتھ نشانہ بنا رہی تھی اس کی مثال صدیوں میں نہیں ملتی، لہٰذا ان وحشیانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوجی مداخلت ناگزیر تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسیحیوں کے خلاف تشدد کا یہ سلسلہ فوری طور پر نہ رکا تو ملوث گروہوں کو اس سے بھی زیادہ سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ فوجی کارروائی ان ہدایات کا تسلسل ہے جو صدر ٹرمپ نے چند ہفتے قبل نائیجیریا میں مسیحیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے پیشِ نظر ممکنہ فوجی اقدامات کی منصوبہ بندی کے لیے جاری کی تھیں۔ اس عسکری کارروائی کے ساتھ ساتھ امریکی محکمہ خارجہ نے حال ہی میں ان نائیجیرین افراد اور ان کے اہل خانہ پر ویزا پابندیاں عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جو مسیحی برادری کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ دوسری جانب نائیجیریا کی حکومت نے امریکی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ملک میں سرگرم مسلح گروہ کسی ایک گروہ تک محدود نہیں بلکہ وہ مسلم اور مسیحی دونوں برادریوں کو یکساں طور پر نشانہ بناتے ہیں، تاہم امریکہ نے مسیحیوں کے تحفظ کو اپنی ترجیح قرار دیتے ہوئے آپریشن مکمل کر لیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے