ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ) سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹوز (سی پی ڈی آئی) نے اپنے سٹیزن نیٹ ورک فار بجٹ اکاؤنٹیبلیٹی (سی این بی اے) کے ذریعے "اسٹیٹ آف بجٹ ٹرانسپیرنسی رپورٹ (2025)” کے نتائج ڈیرہ غازی خان میں الایمان ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی جانب سے منعقدہ میڈیا بریفنگ کے دوران شیئر کیے ہیں۔ یہ رپورٹ خاص طور پر مالی سال 2024-25 پر فوکس کرتی ہے، کیونکہ موجودہ مالی سال ابھی جاری ہے اور اس کا مکمل ڈیٹا سال کے آخر میں دستیاب ہوگا۔
رپورٹ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں بجٹ کی شفافیت محدود اور غیر مساوی ہے، جبکہ عوام کی شرکت کمزور ہے اور احتساب کے عمل میں واضح خلا موجود ہیں۔ اہم بجٹ دستاویزات کو باقاعدگی سے عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے شہریوں کو بجٹ کی ترجیحات پر اثر انداز ہونے کا بہت کم موقع ملتا ہے۔
بریفنگ کے دوران سید اسد آصف نقوی، فوکل پرسن الایمان ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق اگرچہ بجٹ وقت پر پیش کیے جاتے ہیں، لیکن پارلیمانی مشاورت انتہائی کمزور ہے، بحث کے لیے محدود دن مختص کیے جاتے ہیں، اور بجٹ کی مناسب جانچ پڑتال نہیں کی جاتی۔ شفافیت کی سطح اس وقت مزید کم ہو جاتی ہے جب عمل درآمد کے دوران حکومتیں بروقت اخراجات اور آڈٹ رپورٹیں شائع کرنے میں ناکام رہتی ہیں، جس سے مؤثر نگرانی محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی پایا گیا کہ صوبائی سطح پر پنجاب نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، جس کے بعد وفاقی حکومت کا نمبر آتا ہے، جبکہ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ تاہم، مجموعی طور پر شفافیت کی سطح قابل قبول عالمی معیار سے بہت کم ہے۔
سی پی ڈی آئی، سی این بی اے کے ذریعے حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بجٹ کی معلومات بروقت عوام سے شیئر کریں، عوامی شرکت کو مؤثر بنائیں، اور ایک مضبوط احتسابی نظام قائم کریں تاکہ عوام کا اعتماد اور حکمرانی کا نظام بہتر ہو سکے۔
واضح رہے کہ سی پی ڈی آئی پاکستان بھر کے 101 اضلاع میں 64 سول سوسائٹی تنظیموں کے نیٹ ورک سی این بی اے کے پلیٹ فارم سے طویل عرصے سے بجٹ سے متعلق ریسرچ رپورٹیں شائع کر رہا ہے۔ یہ تنظیم بجٹ مشاورتوں اور مباحثوں کے انعقاد کے ذریعے پاکستان میں بجٹ کو عوام کی امنگوں کا ترجمان بنانے اور بجٹ سازی کے مراحل کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔