اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار حبیب خان) عید الفطر کے قریب آتے ہی اوچ شریف کے بازاروں میں خریداروں کا ہجوم تو نظر آ رہا ہے، مگر شہری خوشیوں کے بجائے مہنگائی کے شدید طوفان سے پریشان ہیں۔ مارکیٹ سروے کے مطابق دکانداروں نے کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے، جس نے سفید پوش طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ دکاندار عید کے موقع پر دکانوں کے کرائے، بجلی کے بلوں اور دیگر اخراجات کا بہانہ بنا کر من مانے ریٹس وصول کر رہے ہیں۔ بازار میں خریداری کے لیے آئے ایک شہری نے دلبرداشتہ ہو کر بتایا کہ اب حالات یہ ہیں کہ ہم صرف قیمت پوچھ کر واپس چلے جاتے ہیں، بچوں کے لیے نئے کپڑے خریدنا اب ایک خواب بن چکا ہے۔
مقامی مارکیٹ کمیٹی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس سال قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں کی قوتِ خرید جواب دے گئی ہے۔ اس صورتحال نے بازاروں میں گہما گہمی کے باوجود خریداری کے عمل کو سست کر دیا ہے۔
عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ منافع خور دکانداروں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے اور مارکیٹ ریٹس کو کنٹرول کیا جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے بروقت نوٹس نہ لیا تو عید کی خوشیاں صرف امیر طبقے تک محدود رہ جائیں گی اور عوام میں بے چینی مزید بڑھے گی۔