نیویارک:(کیو این این ورلڈ) پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی منشور اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔ سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی سرحدی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کا استعمال یا دھمکی دینا اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، جو تمام رکن ممالک کو دوسروں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا پابند بناتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی یکطرفہ فوجی کارروائی سے نہ صرف ریاستی خود مختاری کے عالمی نظریے کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ یہ اقدامات آنے والے برسوں میں ایسے بے قابو اور غیر متوقع نتائج کا سبب بن سکتے ہیں جو عالمی قانونی ڈھانچے کی بنیادوں کو کمزور کر دیں گے۔
پاکستانی مندوب نے عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ دنیا پہلے ہی متعدد سنگین بحرانوں کی زد میں ہے، ایسے میں کیریبین خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے کسی طور نیک شگون نہیں ہے۔ انہوں نے اس نازک صورتحال میں فریقین پر انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں کمی لانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پُرامن بقائے باہمی، بامقصد مکالمہ اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی سطح پر قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ چھوٹے اور کمزور ممالک کی خود مختاری کا تحفظ ممکن ہو سکے اور عالمی امن کو لاحق خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔