وہاڑی میں صحافی پر وائلڈ لائف اہلکاروں کا تشدد، ڈیرہ غازی خان کی صحافی برادری کا شدید احتجاج

ڈیرہ غازی خان ( کیو این این ورلڈ/نیوز رپورٹر شاہد خان) وہاڑی چڑیا گھر میں سینئر مقامی صحافی فرخ شہزاد پر وائلڈ لائف اہلکاروں کے بہیمانہ تشدد اور غیر قانونی وصولیوں کے خلاف ڈیرہ غازی خان کے صحافتی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سینئر صحافیوں نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ محض ایف آئی آر کافی نہیں، بلکہ ملوث اہلکاروں کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے۔

تفصیلات کے مطابق وہاڑی چڑیا گھر (Zoo) میں وائلڈ لائف فورس کے اہلکاروں کی جانب سے شہریوں سے مقررہ 10 روپے کے بجائے مبینہ طور پر 50 روپے پارکنگ و داخلہ فیس وصول کی جا رہی تھی۔ مقامی صحافی فرخ شہزاد نے جب اس عوامی استحصال اور زائد وصولی پر سوال اٹھایا تو اہلکاروں نے آپے سے باہر ہو کر ان پر بدترین تشدد کیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ڈی پی او وہاڑی نے نوٹس لیتے ہوئے دو اہلکاروں کو معطل کر کے مقدمہ تو درج کر لیا ہے، تاہم صحافی برادری اس تادیبی کارروائی کو ناکافی قرار دے رہی ہے۔

ڈیرہ غازی خان کے سینئر صحافیوں چوہدری شکیل احمد، منظور خان لغاری، سید ریاض جاذب، شاہد خان،حاجی سعید گندی،شہزاد خان یوسفزئی اور ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی سمیت دیگر رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور آواز ہوتے ہیں، ان پر حملہ دراصل آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافیوں پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور حق و سچ کی آواز بلند کرنے پر کسی بھی زیادتی پر خاموش نہیں رہا جائے گا۔

صحافی رہنماؤں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ انکوائری کو شفاف بنایا جائے اور ملوث اہلکاروں کو ایسی قرار واقعی سزا دی جائے کہ آئندہ کسی سرکاری اہلکار کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور صحافیوں پر ہاتھ اٹھانے کی جرات نہ ہو سکے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ابتدائی کارروائی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے تاکہ صحافی برادری خود کو محفوظ تصور کر سکے۔

آخر میں سینئر صحافیوں نے ملک بھر کی صحافتی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس واقعے کے خلاف اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں، کیونکہ ایک مضبوط اور متحد صحافتی برادری ہی اپنے حقوق کا بہتر تحفظ اور عوامی مسائل کی درست ترجمانی کر سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے